میں خستہ دل کہاں درِ خیرالبشر کہاں
میں خستہ دل کہاں درِ خیرالبشر کہاں
پہنچی ہے اضطراب میں میری نظر کہاں
قاصد کہاں سفیر کہاں نامہ بر کہاں
لیکن وہ میرے حال سے ہیں بے خبر کہاں
آسودہ جمال ہے میری نظر کہاں
دیکھی ہے میں نے طیبہ کی شام وسحر کہاں
میرِ عرب عجم میں سکونِ نظر کہاں
یہ تو مرے فراق کی منزل ہے گھر کہاں
دل ہے کہاں خیال کہاں ہے نظر کہاں
دیوانۂ رسول کو اتنی خبر کہاں
اہلِ خسرو ہیں میرے شریک سفر کہاں
یہ راہِ مصطفیٰ ہے یہاں حیلہ گر کہاں
اب اہل دل کہاں کوئی اہلِ نظر کہاں
لے جاؤں اب میں اپنی متاع ہنر کہاں
آقا نظر کہ عشق کا خانہ خراب ہے
اب سوز دل کہاں ہے گدازِ جگر کہاں
معراج ہے نصیب کہاں میرے عشق کو
ہے ان کے آستاں پہ ابھی میرا سر کہاں
طیبہ پہنچ کے ہم بھی سنیں گے صدائے دل
دل نغمہ بار ہو گا سر رہ گذر کہاں
وارفتگی میں شوق زیارت تو ہے مگر
شائستہ جاں ہے میری نظر کہاں
اے کم سواد عشق ترانا تمام ہے
اے دل! ہے دور روضہ خیرالبشر کہاں
اے دستگیر دست کرم کو دراز کر
یوں ہوگی میری عمر محبت بسر کہاں
یہ وقت مانگنے کا ہے دست دعا اٹھا
ناداں ہے بند بابِ قبول و اثر کہاں
کیفِ آفریں ہے ہجر بھی ان کا وصال بھی
یہ کلفتیں گراں ہیں مرے ذوق پر کہاں
ہیں بے پناہ وسعتیں عشق رسول کی
میرا جہان حلقہ شام و سحر کہاں
میرے لیے مدینے کا در ہے کھلا ہوا
ہے نا قبول میری دعائے سحر کہاں
میں عازم حرم تجھے آوارگی نصیب
تو میرا ساتھ دے گی نسیم سحر کہاں
ہر لمحہ جاں نواز ہے راہ رسول کا
عشق نبی میں ہو تو سفر ہے سفر کہاں
ہم نے سنا ہے قصہ طور و کلیم بھی
شاہ امم کی سیر کا عالم مگر کہاں
اک بھید ہے حقیقت معراجِ مصطفیٰ
اسرار لامکاں کی کسی کو خبر کہاں
چل دوں سوئے مدینہ مگر پاشکستہ ہوں
اڑ جاؤں سوئے طیبہ مگر بال و پر کہاں
شمس و قمر تو کعبۂ قلب و نظر نہیں
ذرے ہیں ان کی راہ کے شمس و قمر کہاں
پیش حضور درد کا اظہار کر سکوں
میرا یہ دل کہاں ہے یہ میرا جگر کہاں
شہر نبی میں بکھرے مضامین پڑھ سکوں
اتنا بلند میرا مذاقِ نظر کہاں
ان کا جمال غیرتِ صد جبریل ہے
ان کا جمال مثل جمالِ بشر کہاں
گھبرا نہ میری نظم مرصع ہے گر طویل
افسانہ ان کے حسن کا ہے مختصر کہاں
رنگ غزل بھی ہے مرے اس رنگ نعت میں
محمدود ہے جمال شہِ بحر و بر کہاں
مظہرؔ یہ نعت خواجہ عالم کا فیض ہے
ورنہ مرے کلام میں تھا یہ اثر کہاں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.