ادھر بھی کوئی ابر رحمت کا چھینٹا ادھر بھی نظر بے سہاروں کے والی
ادھر بھی کوئی ابر رحمت کا چھینٹا ادھر بھی نظر بے سہاروں کے والی
حافظ مظہرالدین مظہرؔ
MORE BYحافظ مظہرالدین مظہرؔ
ادھر بھی کوئی ابر رحمت کا چھینٹا ادھر بھی نظر بے سہاروں کے والی
نگاہوں میں ہے تیری بخشش کا عالم کھڑے میں ترے در پہ تیرے سوالی
کبھی اک زمانے میں تھی وجہ نازش ترے نام لیواؤں کی شان عالی
مگر اب تو ہے عبرتوں کا فسانہ ہم اہل مصیبت کی آشفتہ حالی
ہمیں پھر عطا ہو جلالِ ابوذر میں پھر عنایت ہو شانِ بلالی
دیکھتے رہیں تیرے گند کے جلوے سلامت رہے کئے روضے کی جالی
بجا ہے کہ ہم تشنگانِ کرم کا عمل کی حقیقت سے دامن ہے خالی
مگر یہ شرف بھی کوئی کم نہیں ہے تری ذات سے ایک نسبت ہے عالی
جہاں سے ملی تھی بوصیری کو چادر جہاں کیف سامان تھی روح غزالی
وہاں لے کے آیا ہوں کلیوں کے گُجرے وہاں لے کے پہنچا ہوں پھولوں کی ڈالی
شب زندگی کی سحر کرنے والے خزف کو حریفِ گہر کرنے والے
عرب تیرے فیضان رحمت کا طالب عجم تیری چشم کرم کا سوالی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.