مصحفِ روئے محمد کا جو عرفان نہ تھا
مصحفِ روئے محمد کا جو عرفان نہ تھا
دہر میں کوئی بشر صاحب ایمان نہ تھا
جب ترا حسن مری فکر کا عنوان نہ تھا
میں ترے عشق کی منزل کا حدی خوان نہ تھا
میں اسی وقت سے منسوب تری ذات سے ہوں
جب کہ جبریل امیں بھی ترا دربان نہ تھا
دشت غم میں بھی تری یاد مرے ساتھ رہی
عشق تنہا تھا مگر بے سر و سامان نہ تھا
کون سی خوبی تھی جو نور کے پیکر میں نہ تھی
کون سا پھول تھا جو زیبِ گلستان نہ تھا
دل عشاق نہ کیوں طور تجلیٰ بنتا
عشق فردوس محبت تھا بیابان نہ تھا
ان کی یکتائی پر تھے آدم و حوا بھی فدا
یوسف مصری سو جان سے قربان نہ تھا
مل کے مظہرؔ سے نئے نعت کے مضمون سنے
دور رہ کر ہمیں اندازہ طوفان نہ تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.