بنے ہیں دونوں جہاں شاہ دوسرا کے لیے
بنے ہیں دونوں جہاں شاہ دوسرا کے لیے
سجی ہے محفل کونین مصطفیٰ کے لیے
زباں کو اس لیے شیرینی بیان ملی
زباں ہے مدحت محبوب کبریا کے لیے
گدائے کوئے مدینہ ہوں کس کا منہ دیکھوں
اُنہی کی بخششیں کافی ہیں مجھ گدا کے لیے
انہی کو لذت عشق نبی ملی کہ جنہیں
ازل میں چن لیا قدرت نے اس عطا کے لیے
مرے کریم میرے چارہ ساز و بندہ نواز
ترپ رہا ہوں ترے شہر کی ہوا کے لیے
فراز طور پر وہ بے نقاب کیوں ہوتے
کہ آشنا کی تجلی تھی آشنا کے لیے
حضور نور ہیں محمود ہیں محمد ہیں
جگہ جگہ نئے عنوان ہیں ثنا کے لیے
انہی کا ذکر انہی کا بیاں انہی کا نام
ہر ابتدا کے لیے ہے ہر انتہا کے لیے
عجیب نشہ بے نام سا ہوا محسوس
زبان جب بھی کھلی ہے تری ثنا کے لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.