پیری کا زمانہ ہے مدینے کا سفر ہے
پیری کا زمانہ ہے مدینے کا سفر ہے
صد شکر مری شام ہم آغوش سحر ہے
یہ وقت مناجات ہے ہنگام ظفر ہے
آہوں میں تاثیر ہے دعاؤں میں اثر ہے
گفتار میں شرینی ہے رفتار میں مستی
موضوع سخن سید ذی شان کا نگر ہے
ہر لحظہ ہیں سرکار کی رحمت پہ نگاہیں
ہر لحظہ گنہگار پہ رحمت کی نظر ہے
صبحیں بھی ضیا بار ہیں شامیں بھی صیا بار
کیا نور افشاں سلسلہ شام و سحر ہے
یہ ریت کے ٹیلے ہیں کہ آیات الہی
ذرات کی دنیا ہے کہ جلووں کا نگر ہے
خاموش فضاوں میں ہیں دن رات اذانیں
خاک راہ محبوب ہے اور سجدوں میں سر ہے
مکہ بھی نظر میں ہے مدینہ بھی نظر میں
القصہ محبت کا جہاں زیر و زبر ہے
دیکھا ہے مری روح نے وہ کیف کا عالم
دشوار جہاں حور و ملائک کا گزر ہے
ہر گام ہے اک زندگی تازہ کا پیغام
مٹی میں ہے تاثیر ہوا میں بھی اثر ہے
ان دونوں مقامات کے آداب جدا ہیں
اک منزل محبوب اک اللہ کا گھر ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.