دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا شہرِ مدینہ ایسا ہے
دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا شہرِ مدینہ ایسا ہے
آنکھوں کو جو ٹھنڈک بخشے گنبدِ خضریٰ ایسا ہے
میں بھی چوم کے آج ہوں آیا ان مہکتی گلیوں کو
جو کچھ دیکھا ان گلیوں میں کہیں نہ دیکھا ایسا ہے
روضۂ پاک کی چوم کے جالی پیاس بجھائی آنکھوں نے
لیکن دل یہ دید کا پیاسا آج بھی پیاسا ایسا ہے
منبرِ پاک رسول بھی دیکھا دیکھا خاص مصلے بھی
حرم شریف کا ہر منظر ہی نظر میں جچتا ایسا ہے
دل یہ چاہے دیکھتے جائیں دل افروز نظاروں کو
شہرِ نبی کا ہر منظر ہی پیارا پیارا ایسا ہے
ریاض الجنہ کی خوشبو سے گلشنِ دل مہکایا ہے
مسجدِ نبوی کا من بھاتا ہر اک نقشہ ایسا ہے
ہم مہمان بنے تھے ان کے عرش پہ جو مہمان ہوئے
کیوں نہ قسمت پر ہوں نازاں جن کا آقا ایسا ہے
جلوؤں میں گم ہو کے ان کے ہوتا ہے محسوس یہی
آ گئے ہم جنت میں جیسے دل کو لگتا ایسا ہے
واپس آئیں دل نہیں کرتا چھوڑ کے ان کی چوکھٹ کو
جان بھی دے دیں حافظؔ در پر جی میں آتا ایسا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.