Font by Mehr Nastaliq Web

دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا شہرِ مدینہ ایسا ہے

حافظ محمد حسین

دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا شہرِ مدینہ ایسا ہے

حافظ محمد حسین

MORE BYحافظ محمد حسین

    دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا شہرِ مدینہ ایسا ہے

    آنکھوں کو جو ٹھنڈک بخشے گنبدِ خضریٰ ایسا ہے

    میں بھی چوم کے آج ہوں آیا ان مہکتی گلیوں کو

    جو کچھ دیکھا ان گلیوں میں کہیں نہ دیکھا ایسا ہے

    روضۂ پاک کی چوم کے جالی پیاس بجھائی آنکھوں نے

    لیکن دل یہ دید کا پیاسا آج بھی پیاسا ایسا ہے

    منبرِ پاک رسول بھی دیکھا دیکھا خاص مصلے بھی

    حرم شریف کا ہر منظر ہی نظر میں جچتا ایسا ہے

    دل یہ چاہے دیکھتے جائیں دل افروز نظاروں کو

    شہرِ نبی کا ہر منظر ہی پیارا پیارا ایسا ہے

    ریاض الجنہ کی خوشبو سے گلشنِ دل مہکایا ہے

    مسجدِ نبوی کا من بھاتا ہر اک نقشہ ایسا ہے

    ہم مہمان بنے تھے ان کے عرش پہ جو مہمان ہوئے

    کیوں نہ قسمت پر ہوں نازاں جن کا آقا ایسا ہے

    جلوؤں میں گم ہو کے ان کے ہوتا ہے محسوس یہی

    آ گئے ہم جنت میں جیسے دل کو لگتا ایسا ہے

    واپس آئیں دل نہیں کرتا چھوڑ کے ان کی چوکھٹ کو

    جان بھی دے دیں حافظؔ در پر جی میں آتا ایسا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے