آپ سے کچھ عرض کے قابل کہاں
آپ سے کچھ عرض کے قابل کہاں
مجھ سے نالائق کی یہ کج مج زباں
پھر بھی اپنے لطف سے میرا بیاں
سن ہی لیجیے اے مرے قطبِ زماں
ہو ادھر چشمِ کرم پیرانِ پیر
آستانے پر کھڑا ہے اک فقیر
واسطہ حسنین کا سن لیجیے
مشکلیں آسان میری کیجیے
آپ کو مولیٰ علی کی ہے قسم
دور کر دیجیے مرے رنج و الم
کس سے مانگوں ہاتھ پھیلاؤں کہاں
آپ کے در کے سوا جاؤں کہاں
دامنِ مقصد میرا بھر دیجیے
آج تو میری خوشی کر دیجیے
کاش ہو جائے مرا ایسا نصیب
آپ بلوائیں مجھے اپنے قریب
اور کر لیں پھر مجھے اپنا غلام
خدمتیں لیں مجھے سے اپنی صبح و شام
زندگی میری یوں ہی جائے گزر
آپ کی چوکھٹ پہ ہی رکھا ہو سر
خاتمہ ہو آپ کی ہی یاد میں
بعدِ مردن ہو لحد بغداد میں
کیا بتاؤں اپنے دل کا حال میں
بعدِ مردن ہو لحد بغداد میں
کیا بتاؤں اپے دل کا حال میں
پھنس گیا ہوں میں بڑے جنجال میں
شاہ جیلاں وقت ہے امداد کا
در پہ آیا ہوں لگا کر آسرا
قطبِ دوراں اب مدد کا وقت ہے
بخت برگشتہ ہے منزل سخت ہے
المدد یا غوث اعظم المدد
المدد یا قطبِ اکرم المدد
ہر طرح گھیرے ہیں اشرار و شرور
دور فرمادیں انہیں اب تو حضور
نرغۂ اعداد میں ہیں اہل سنن
دور کیجیے ان سے سب اہل فتن
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.