صبا گزرے تو کہہ دینا بڑے سرکار چشتی سے
Page-39
صبا گزرے تو کہہ دینا بڑے سرکار چشتی سے
ڈوبا ہوں غم کے دریا میں نکالو مجھ کو کشتی سے
بہت بدکار ہوں لاچار ہوں نادار ہوں آقا
مدد کیجے شکستہ و ناتواں کی اپنے پشتی سے
برے اعمال کو لے کر بھٹکتا پھرتا ہوں در در
بلا لو اپنے بستی میں چھڑا دو خانہ گشتی سے
لقب سرکار کا ان کو دیا اجمیری خواجہ نے
شہنشاہی ملی سرکار کو سلطان چشتی سے
دیا خالق نے ہے رتبہ قطب اور غوث کا ان کو
خدا نے بھی کیا ہے ان کو سلطانِ بہشتی سے
غلام قاؔسم عاصی کی ہر دم یہ تمنا ہے
دمِ آخر لگی ہو ٹکٹکی سرکار چشتی سے
حکیم محمد قاسم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.