کھلا آج درِ فیض گنج شکر ہے
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت فریدالدین گنج شکر (پاکپٹن-لاہور)
کھلا آج درِ فیض گنج شکر ہے
یہ گلزار جنت بنا میرا گھر ہے
کراماتِ خواجہ محمد حسین ہے
عیاں سرّ توحید بس سربسر ہے
کھلی صورت حسن تنویر دل پر
یہ اذکار نوری کا پورا اثر ہے
جو دیکھا تجھے آئینہ دل میں اپنے
رخِ پُرضیا تیرا مدِ نظر ہے
اے اختیار صاحب میں بندہ ہوں تیرا
نہ پرواہ کچھ اور نہ خوف و خطر ہے
گدا ہوں جو چاہو تو سلطاں بنا دو
کلامِ دعا میرا بس مختصر ہے
رفیعؔ بے نوا خستہ پر اک نظر ہو
یہ خدام اکرام کا منتظر ہے
- کتاب : Safeena Tajuddin Chishti (Pg. 07)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.