یاد مصطفیٰ ہی میں لطف و شادمانی ہے
یاد مصطفیٰ ہی میں لطف و شادمانی ہے
زندگی سہانی ہے موت بھی سہانی ہے
میرے کملی والے کے حسن کی تجلی سے
آفتاب سوزاں ہے چاند پانی پانی ہے
طیبہ جن کا ہے مسکن خلد جن کا ہے مامن
میرے دل میں رہتے ہیں ان کی مہربانی ہے
جیسے رب اکبر کی شان بے مثالی ہے
خلق میں بھی حضرت کا مثل ہے نہ ثانی ہے
وہ اگر نہیں ہوتے کائنات کب ہوتی
گویا ذاتِ احمد ہی دو جہاں کی بانی ہے
منبع ہدایت ہے جس کو کہتے ہیں قرآں
ہے کلام رب لیکن آپ کی زبانی ہے
زندگی غنیمت ہے نیکیاں کما لیجے
جان کا بھروسہ کیا یہ تو آنی جانی ہے
عاشقِ محمد ہے غیر کا نہیں عاقلؔ
عشقِ مصطفیٰ باقی عشق غیر فانی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.