بیتِ وصفِ روئے شہ میں وہ تجلیٰ بڑھ گیا
بیتِ وصفِ روئے شہ میں وہ تجلیٰ بڑھ گیا
مطلعِ خورشید سے مطلع ہمارا بڑھ گیا
عشقِ نقشِ پائے شہ میں ہوگئے باہم رقیب
مہر و ماہ ملتے نہیں آپس میں جھگڑا بڑھ گیا
کاہشِ دل کثرتِ غم بحرِ طیبہ میں ہوئی
ہم ہیں بے خود بے خبر کیا گھٹ گیا کیا بڑھ گیا
روئے حضرت کے تصور سے اٹھی ہے موجِ اشک
یہ اثر جذبِ قمر کا ہے کہ دریا بڑھ گیا
آپ شافع ہوگئے حق نے کہا لا تقنطوا
ہم گنگہاروں کا دل محشر میں دونا بڑھ گیا
کیا ندامت سے زمیں میں گڑ گیا مرا غبار
دشتِ طیبہ میں جو کچھ آگے بگولا بڑھ گیا
رات بھیگی، چادرِ مہتاب بھی تر ہو گئی
وادیٔ طیبہ میں یہ اشکوں کا دریا بڑھ گیا
ہے فزوں شوقِ زیارت گو ہوئی قطعِ امید
چھاٹنے سے اور بھی نخلِ تمنا بڑھ گیا
کہہ رہا ہے روئے حضرت سے مجھے تشبیہ دی
کس قدر بلبل سے گل کا ناز بیجا بڑھ گیا
دولتِ دیدار دے کر دل کو لیتے ہیں حضور
اس شکستہ آئینہ کا مول کتنا بڑھ گیا
باندھ رکھو شاہدِ معنی کو حامدؔ بیت میں
عشقِ نعتِ روئے شہ میں اس کا سودا بڑھ گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.