وہ عظیم لوگ ہیں جن کے دل میں ہوا قیام حضور کا
وہ عظیم لوگ ہیں جن کے دل میں ہوا قیام حضور کا
ہے بلند تر وہ نگاہ جس میں ہے احترام حضور کا
رہِ زندگانی میں نقش پائے حضور منزل زندگی
کہ جہاں میں مقصدِ زندگی ہے ہر ایک گام حضور کا
نہ نظر میں شانِ سکندری نہ کمال میں شوکتِ خسروی
مری جان ان پر نثار ہو کہ میں ہوں غلام حضور کا
میرے دل میں شمع سی جل گئی مرے لب پہ پھول سے کھل گئے
کبھی میں نے ہو کہ جو باوضو لیا پاک نام حضور کا
دل و جان آج بھی فیض یاب ہیں ان کے پر تو فیض سے
ہے جہاں کے واسطے آج بھی وہی فیضِ عام حضور کا
یہ میرے حضور کی شان ہے کہ تمام کرہ ارض پر
بڑے التزام سے ذکر ہوتا ہے صبح و شام حضور کا
وہی بات میرے حضور کی وہی حکم رب جلیل کا
کہ کلام پاک کا عکس و آئینہ ہے کلام حضور کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.