Font by Mehr Nastaliq Web

حقیقت میں وہ لطفِ زندگی پایا نہیں کرتے

حامد لکھنوی

حقیقت میں وہ لطفِ زندگی پایا نہیں کرتے

حامد لکھنوی

MORE BYحامد لکھنوی

    حقیقت میں وہ لطفِ زندگی پایا نہیں کرتے

    جو یادِ مصطفیٰ سے دل کو گرمایا نہیں کرتے

    زبان پر شکوہِ رنج و الم لایا نہیں کرتے

    نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے

    محمد مصطفیٰ کے باغ کہ پھول ایسے ہیں

    یہ بے پانی کے تر رہتے ہیں مرجھایا نہیں کرتے

    ندامت ساتھ لے کر حشر میں اے عاصیو جانا

    سنا ہے شرم والوں کو وہ شرمایا نہیں کرتے

    اگر ہو جذبۂ صادق تو اکثر ہم نے دیکھا ہے

    وہ خود تشریف لے آتے ہیں تڑپایا نہیں کرتے

    جو ان کے دامنِ رحمت سے وابستہ ہیں اے حامدؔ

    کسی کے سامنے وہ ہاتھ پھیلایا نہیں کرتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے