ممنونِ کرم جس کا عرب بھی ہے عجم بھی
ممنونِ کرم جس کا عرب بھی ہے عجم بھی
روشن ہے اسی شمع ہدایت سے حرم بھی
محدود نہیں آپ کا انعام گدا تک
ہیں منتظر جود و کرم اہل کرم بھی
اس راہ میں تکفیر کی آندھی نہیں اٹھتی
ہیں ان کے غلاموں کے جہاں نقشِ قدم بھی
قسمت کے دھنی ہیں جو مدینے میں پڑے ہیں
اے کاش انہیں خلد نشینوں میں ہوں ہم بھی
اللہ رے توقیرِ رہ سرور کونین
آتے ہیں اسی راہ میں ہستی بھی عدم بھی
یا شاہ امم اشکِ عقیدت کے علاوہ
حسرتؔ کو ملے عظمت قرطاس و قلم بھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.