ترے حسنِ وفا ہی نے محبت کی بنا ڈالی
ترے حسنِ وفا ہی نے محبت کی بنا ڈالی
اسی شعلے سے انساں میں ہوا سوزِ جگر پیدا
رسول اللہ کے ذکرِ درخشندہ سے ہوتا ہے
میرے سجدوں میں محویت دعاؤں میں اثر پیدا
بشر کا جس جگہ بے ٹوک استحصال ہوتا تھا
وہیں کی خاک سے اک دن ہوا خیرالبشر پیدا
میں بے مایہ سہی لیکن تمہارے در پہ پہنچوں گا
یقیں منزل کا کر دیتا ہے خود ذوقِ سفر پیدا
گدا ہو جائے تیرا ہر کس و ناکس یہ مشکل ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
تڑپتا ہے دلِ حسرتؔ مدینے کی زیارت کو
الٰہی اس کے نخلِ آرزو میں ہو ثمر پیدا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.