Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

عاصیوں کو در تمہارا مل گیا

حسن رضا بریلوی

عاصیوں کو در تمہارا مل گیا

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    عاصیوں کو در تمہارا مل گیا

    بے ٹھکانوں کو ٹھکانا مل گیا

    فضل رب سے پھر کمی کس بات کی

    مل گیا سب کچھ جو طیبہ مل گیا

    کشف راز من رانی یوں ہوا

    تم ملے تو دل تعالیٰ مل گیا

    بیخودی ہے باعث کشف حجاب

    مل گیا ملنے کارستا مل گیا

    ان کے درنے سب سے مستغنی کیا

    بے طلب بے خواہش اتنا مل گیا

    ناخدائی کے لیے آئے حضور

    ڈوبتو نکلو سہارا مل گیا

    دونوں عالم سے مجھے کیوں کھو دیا

    نفس خود مطلب تجھے کیا مل گیا

    آنکھیں پُرنم ہوگئیں سر جھک گئی

    جب ترا نقشِ کفِ پا مل گیا

    خلد کیسا کیا چمن کس کا وطن

    مجھ کو صحرائے مدینہ مل گیا

    ہے محبت کس قدر نامِ خدا

    نام حق سے نام والا مل گیا

    ان کے طالب نے جو چاہا پالیا

    ان کے سائل نے جو مانگا مل گیا

    تیرے در کے ٹکڑے ہیں اور میں غریب

    مجھ کو روزی کا ٹھکانا مل گیا

    اے حسنؔ فردوس میں جائیں جناب

    ہم کو صحرائے مدینہ مل گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے