جن و انسان و ملک کو ہے بھروسا تیرا
جن و انسان و ملک کو ہے بھروسا تیرا
سرورا مرجعِ کل ہے درِ والا تیرا
واہ اے عطرِ خدا ساز مہکنا تیرا
خوبرو ملتے ہیں کپڑوں میں پسینہ تیرا
دہر میں آٹھ پہر بٹتا ہے باڑا تیرا
وقف ہے مانگنے والوں پہ خزانہ تیرا
لامکاں میں نظر آتا ہے اجالا تیرا
دور پہنچایا ترے حسن نے شہرہ تیرا
جلوۂ یار ادھر بھی کوئی پھیرا تیرا
حسرتیں آٹھ پہر تکتی ہیں رستہ تیرا
یہ نہیں ہے کہ فقط ہے یہ مدینہ تیرا
تو ہے مختار، دو عالم پہ ہے قبضہ تیرا
کیا کہے وصف کوئی دشتِ مدینہ تیرا
پھول کی جان نزاکت میں ہے کانٹا تیرا
کس کے دامن میں چھپے کس کے قدم پر لوٹے
تیرا سگ جائے کہاں چھوڑ کے ٹکڑا تیرا
خسروِ کون و مکاں اور تواضع ایسی
ہاتھ تکیہ ہے ترا، خاک بچھونا تیرا
خوبرویانِ جہاں تجھ پہ فدا ہوتے ہیں
وہ ہے اے ماہِ عرب حسن دل آرا تیرا
دشت پر ہول میں گھیرا ہے درندوں نے مجھے
اے مرے خضر ادھر بھی کوئی پھیرا تیرا
بادشاہانِ جہاں بہرِ گدائی آئیں
دینے پر آئے اگر مانگنے والا تیرا
دشمن و دوست کے منہ پر ہے کشادہ یکساں
روئے آئینہ ہے مولیٰ درِ والا تیرا
پاؤں مجروح ہیں منزل ہے کڑی بوجھ بہت
آہ گر ایسے میں پایا نہ سہارا تیرا
نیک اچھے ہیں کہ اعمال ہیں ان کے اچھے
ہم بدوں کے لیے کافی ہے بھروسا تیرا
آفتوں میں ہے گرفتار غلامِ عجمی
اے عرب والے ادھر بھی کوئی پھیرا تیرا
اونچے اونچوں کو ترے سامنے ساجد پایا
کس طرح سمجھے کوئی رتبۂ اعلیٰ تیرا
خارِ صحرائے نبی پاؤں سے کیا کام تجھے
آ مری جان مرے دل میں ہے رستہ تیرا
کیوں نہ ہو ناز مجھے اپنے مقدر پہ کہ ہوں
سگ ترا بندہ ترا مانگنے والا تیرا
اچھے اچھے ہیں ترے در کی گدائی کرتے
اونچے اونچوں میں بٹا کرتا ہے صدقہ تیرا
بھیک بے مانگے فقیروں کو جہاں ملتی ہے
دونوں عالم میں وہ دروازہ ہے کس کا تیرا
کیوں تمنا مری مایوس ہو اے ابرِ کرم
سوکھے دھانوں کا مددگار ہے چھینٹا تیرا
ہائے پھر خندۂ بے جا مرے لب پر آیا
ہائے پھر بھول گیا راتوں کا رونا تیرا
حشر کی پیاس سے کیا خوف گنہگاروں کو
تشنہ کاموں کا خریدار ہے دریا تیرا
سوزنِ گمشدہ ملتی ہے تبسم سے ترے
شام کو صبح بناتا ہے اجالا تیرا
صدق نے تجھ میں یہاں تک تو جگہ پائی ہے
کہہ نہیں سکتے اُلش کو بھی تو جھوٹا تیرا
خاص بندوں کے تصدق میں رہائی پائے
آخر اس کام کا تو ہے یہ نکما تیرا
بندِ غم کاٹ دیا کرتے ہیں تیرے ابرو
پھیر دیتا ہے بلاؤں کو اشارہ تیرا
حشر کے روز ہنسائے گا خطاکاروں کو
میرے غمخوارِ دل شب میں یہ رونا تیرا
عمل نیک کہاں نامۂ بدکاراں میں
ہے غلاموں کو بھروسا مرے آقا تیرا
بہرِ دیدار جھک آئے ہیں زمیں پر تارے
واہ اے جلوۂ دلدار چمکنا تیرا
اونچی ہو کر نظر آتی ہے ہر اک شے چھوٹی
جا کے خورشید بنا چرخ پہ ذرہ تیرا
اے مدینہ کی ہوا دل میرا افسردہ ہے
سوکھی کلیوں کو کھلا جاتا ہے جھونکا تیرا
میرے آقا ہیں واہ ابر کرم سوز الم
ایک چھینٹے کا بھی ہوگا نہ یہ دہرا تیرا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.