Font by Mehr Nastaliq Web

دل مرا دنیا پہ شیدا ہوگیا

حسن رضا بریلوی

دل مرا دنیا پہ شیدا ہوگیا

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    دل مرا دنیا پہ شیدا ہوگیا

    اے مرے اللہ یہ کیا ہوگیا

    کچھ مرے بچنے کی صورت کیجیے

    اب تو جو ہونا تھا مولیٰ ہوگیا

    عیب پوشِ خلق دامن سے ترے

    سب گنہگاروں کا پردہ ہوگیا

    رکھ دیا جب اس نے پتھر پر قدم

    صاف اک آئینہ پیدا ہوگیا

    دور ہو مجھ سے جو ان سے دور ہے

    اس پہ میں صدقے جو ان کا ہوگیا

    گرمیٔ بازار مولیٰ بڑھ چلی

    نرخِ رحمت خوب سستا ہوگیا

    دیکھ کر ان کا فروغِ حسنِ پا

    مہرِ ذرہ چاند تارا ہوگیا

    ربِ سلم وہ ادھر کہنے لگے

    اس طرف پار اپنا بیڑا ہوگیا

    ان کے جلووں میں ہیں یہ دلچسپیاں

    جو وہاں پہنچا وہیں کا ہوگیا

    تیرے ٹکڑوں سے پلے دونوں جہاں

    سب کا اس در سے گزارا ہوگیا

    السلام اے ساکنانِ کوئے دوست

    ہم بھی آتے ہیں جو ایما ہوگیا

    ان کے صدقہ میں عذابوں سے چھٹے

    کام اپنا نام ان کا ہوگیا

    سر وہی جو ان کے قدموں سے لگا

    دل وہی جو ان پہ شیدا ہوگیا

    حسن یوسف پر زلیخا مٹ گئیں

    آپ پر اللہ پیارا ہوگیا

    اس کو شیروں پر شرف حاصل ہوا

    آپ کے در کا جو کتا ہوگیا

    زاہدوں کی خلد پر کیا دھوم تھی

    کوئی جانے گھر یہ ان کا ہوگیا

    غول ان کے عاصیوں کے آئے جب

    چھنٹ گئی سب بھیڑ رستہ ہوگیا

    جا پڑا جو دشتِ طیبہ میں حسنؔ

    گلشنِ جنت گھر اس کا ہوگیا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے