Font by Mehr Nastaliq Web

مجرمِ ہیبت زدہ جب فردِ عصیاں لے چلا

حسن رضا بریلوی

مجرمِ ہیبت زدہ جب فردِ عصیاں لے چلا

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    مجرمِ ہیبت زدہ جب فردِ عصیاں لے چلا

    لطف شہ تسکین دیتا پیش یزداں لے چلا

    دل کے آئینہ میں جو تصویر جاناں لے چلا

    محفل جنت کی آرائش کا ساماں لے چلا

    رہروِ جنت کو طیبہ کا بیاباں لے چلا

    دامن دل کھینچتا خارِ مغیلاں لے چلا

    گل نہ ہو جائے چراغِ زینت گلشن کہیں

    اپنے سر میں میں ہوائے دشت جاناں لے چلا

    روئے عالم تاب نے بانٹا جو باڑا نور کا

    ماہِ نو کشتی میں پیالا مہر تاباں لے چلا

    گو نہیں رکھتے زمانہ کی وہ دولت اپنے پاس

    پر زمانہ نعمتوں سے بھر کے داماں لے چلا

    تیری ہیبت سے ملا تاجِ سلاطیں خاک میں

    تیری رحمت سے گدا تخت سلیماں لے چلا

    ایسی شوکت پر کہ اڑتا ہے پھریرا عرش پر

    جس گدا نے آرزو کی ان کو مہماں لے چلا

    دبدبہ کس سے بیاں ہو ان کے نام پاک کا

    شیر کے منھ سے سلامت جانِ سلماں لے چلا

    صدقے اس رحمت کے ان کو روزِ محشر ہر طرف

    ناشکیبا شورِ فریادِ اسیراں لے چلا

    ساز و سامانِ گدائے کوئے سرور کیا کہوں

    ان کا منگتا سروری کے ساز و ساماں لے چلا

    دو قدم بھی چل نہ سکتے ہم سر شمشیر تیز

    ہاتھ پکڑے ربِ سلم کا نگہباں لے چلا

    دستگیرِ خستہ حالاں دستگیری کیجیے

    پاؤں میں رعشہ ہے سر پر بارِ عصیاں لے چلا

    وقتِ آخر ناامیدی میں وہ صورت دیکھ کر

    دل شکستہ دل کے ہر پارہ میں قرآں لے چلا

    قیدیوں کی جنبش ابرو سے بیڑی کاٹ دو

    ورنہ جرموں کا تسلسل سوئے زِنداں لے چلا

    روزِ محشر شاد ہوں عاصی کہ پیش کبریا

    رحم ان کو امتی گویاں و گریاں لے چلا

    شکل شبنم راتوں کا رونا ترا ابر کرم

    صبحِ محشر صورتِ گل ہم کو خنداں لے چلا

    کشتگانِ ناز کی قسمت کے صدقے جائیے

    ان کو مقتل میں تماشائے شہیداں لے چلا

    بزمِ خوباں کو خدا نے پہلے دیں آرائشیں

    پھر مرے دولہا کو سوئے بزمِ خوباں لے چلا

    اللہ اللہ صرصرِ طیبہ کی رنگ آمیزیاں

    ہر بگولا نزہت سروِ گلستاں لے چلا

    غمزدوں کو جب شفاعت نے کیا امیدوار

    عفو خوش خبری سناتا پیش یزداں لے چلا

    قطرہ قطرہ ان کے گھر سے بحر عرفاں ہوگیا

    ذرہ ذرہ ان کے در سے مہر تاباں لے چلا

    صبح محشر ہر ادائے عارِضِ روشن میں وہ

    شمع نور افشاں پئے شامِ غریباں لے چلا

    شافع روزِ قیامت کا ہوں ادنیٰ امتی

    پھر حسنؔ کیا غم اگر میں بارِ عصیاں لے چلا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے