Font by Mehr Nastaliq Web

تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہوگا

حسن رضا بریلوی

تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہوگا

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہوگا

    ہمارا بگڑا ہوا کام بن گیا ہوگا

    گناہ گار پہ جب لطف آپ کا ہوگا

    کیا بغیر کیا بے کیا کیا ہوگا

    خدا کا لطف ہوا ہوگا دست گیر ضرور

    جو گرتے گرتے ترا نام لے لیا ہوگا

    دکھائی جائے گی محشر میں شانِ محبوبی

    کہ آپ ہی کی خوشی آپ کا کہا ہوگا

    خدائے پاک کی چاہیں گے اگلے پچھلے خوشی

    خدائے پاک خوشی ان کی چاہتا ہوگا

    کسی کے پاؤں کی بیڑی یہ کاٹتے ہوں گے

    کوئی اسیر غم ان کو پکارتا ہوگا

    کسی طرف سے صدا آئے گی حضور آؤ

    نہیں تو دم میں غریبوں کا فیصلہ ہوگا

    کسی کے پلہ پہ یہ ہوں گے وقت وزنِ عمل

    کوئی امید سے منھ ان کا تک رہا ہوگا

    کوئی کہے گا دہائی ہے یا رسول اللہ

    تو کوئی تھام کے دامن مچل گیا ہوگا

    کسی کو لے کے چلیں گے فرشتے سوئے جحیم

    وہ ان کا راستہ پھر پھر کے دیکھتا ہوگا

    شکستہ پا ہوں مرے حال کی خبر کر دو

    کوئی کسی سے یہ رو رو کے کہہ رہا ہوگا

    خدا کے واسطے جلد ان سے عرض حال کرو

    کسے خبر ہے کہ دم بھر میں ہائے کیا ہو گا

    پکڑ کے ہاتھ کوئی حالِ دل سنائے گا

    تو رو کے قدموں سے کوئی لپٹ گیا ہوگا

    زبان سوکھی دکھا کر کوئی لب کوثر

    جنابِ پاک کے قدموں پہ گر گیا ہوگا

    نشانِ خسروِ دیں دور کے غلاموں کو

    لوائے حمد کا پرچم بتا رہا ہوگا

    کوئی قریب ترازو کوئی لبِ کوثر

    کوئی صراط پر ان کو پکارتا ہوگا

    یہ بے قرار کرے گی صدا غریبوں کی

    مقدس آنکھوں سے تار اشک کا بندھا ہو گا

    وہ پاک دل کہ نہیں جس کو اپنا اندیشہ

    ہجومِ فکر و تردد میں گھر گیا ہوگا

    ہزار جان فدا نرم نرم پاؤں سے

    پکار سن کے اسیروں کی دوڑتا ہوگا

    عزیز بچہ کو ماں جس طرح تلاش کرے

    خدا گواہ یہی حال آپ کا ہوگا

    خدائی بھر انہیں ہاتھوں کو دیکھتی ہوگی

    زمانہ بھر انہیں قدموں پہ لوٹتا ہوگا

    بنی ہے دم پہ دہائی ہے تاج والے کی

    یہ غل یہ شور یہ ہنگامہ جابجا ہوگا

    مقام فاصلوں پر کام مختلف اتنے

    وہ دن ظہورِ کمالِ حضور کا ہوگا

    کہیں گے اور نبی اذ ھبوا الیٰ غیری

    مرے حضور کے لب پر انا لھا ہوگا

    دعائے امت بدکار وردِ لب ہوگی

    خدا کے سامنے سجدہ میں سر جھکا ہوگا

    غلام ان کی عنایت سے چین میں ہوں گے

    عدو حضور کا آفت میں مبتلا ہوگا

    میں ان کے در کا بھکاری ہوں فضل مولیٰ سے

    حسنؔ فقیر کا جنت میں بسترا ہوگا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے