Font by Mehr Nastaliq Web

واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا

حسن رضا بریلوی

واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا

    تو خدا کا خدا ہوا تیرا

    تاج والے ہوں اس میں یا محتاج

    سب نے پایا دیا ہوا تیرا

    ہاتھ خالی کوئی پھرا نہ پھرے

    ہے خزانہ بھرا ہوا تیرا

    آج سنتے ہیں سننے والے کل

    دیکھ لیں گے کہا ہوا تیرا

    اسے تو جانے یا خدا جانے

    پیش حق رتبہ کیا ہوا تیرا

    گھر ہیں سب بند در ہیں سب تیغے

    ایک در ہے کھلا ہوا تیرا

    تاجداروں کا تاجدار بنا

    بن گیا جو گدا ہوا تیرا

    اور میں کیا لکھوں خدا کی حمد

    حمد اسے وہ خدا ہوا تیرا

    جو ترا ہو گیا خدا کا ہوا

    جو خدا کا ہوا ہوا تیرا

    حوصلے کیوں گھٹیں غریبوں کے

    ہے ارادہ بڑھا ہوا تیرا

    ذات بھی تیری انتخاب ہوئی

    نام بھی مصطفیٰ ہوا تیرا

    جسے تو نے دیا خدا نے دیا

    دین رب کی دیا ہوا تیرا

    ایک عالم خدا کا طالب ہے

    اور طالب خدا ہوا تیرا

    بزمِ امکاں ترے نصیب کھلے

    کہ وہ دولہا بنا ہوا تیرا

    میری طاعت سے میرے جرم فزوں

    لطف سب سے بڑھا ہوا تیرا

    خوفِ وزنِ عمل کسے ہو کہ ہے

    دل مدد پر تلا ہوا تیرا

    کام بگڑے ہوئے بنا دینا

    کام کس کا ہوا ہوا تیرا

    ہر ادا دل نشیں بنی تیری

    ہر سخن جاں فزا ہوا تیرا

    آشکارا کمالِ شانِ حضور

    پھر بھی جلوہ چھپا ہوا تیرا

    پردہ دارِ ادا ہزار حجاب

    پھر بھی پردہ اٹھا ہوا تیرا

    بزمِ دنیا میں بزمِ محشر میں

    نام کس کا ہوا ہوا تیرا

    من رانی فقد رای الحق

    حسن یہ حق نما ہوا تیرا

    بارِ عصیاں سروں سے پھینکے گا

    پیش حق سر جھکا ہوا تیرا

    یمِ جود حضور پیاسا ہوں

    یم گھٹا سے بڑھا ہوا تیرا

    وصل وحدت پھر اس پہ یہ خلوت

    تجھ سے سایہ جدا ہوا تیرا

    صنع خالق کے جتنے خاکے ہیں

    رنگ سب میں بھرا ہوا تیرا

    ارضِ طیبہ قدومِ والا سے

    ذرہ ذرہ سما ہوا تیرا

    اے جناں میرے گل کے صدقے میں

    تختہ تختہ بسا ہوا تیرا

    اے فلک مہر حق کے باڑے سے

    کاسہ کاسہ بھرا ہوا تیرا

    اے چمن بھیک ہے تبسم کی

    غنچہ غنچہ کھلا ہوا تیرا

    ایسی شوکت کے تاجدار کہاں

    تخت تختِ خدا ہوا تیرا

    اس جلالت کے شہریار کہاں

    ملک ملکِ خدا ہوا تیرا

    خلق کہتی ہے لامکاں جس کو

    شہ نشیں ہے سجا ہوا تیرا

    زیست وہ ہے کہ حسن یار رہے

    دل میں عالم بسا ہوا تیرا

    موت وہ ہے کہ ذکر دوست رہے

    لب پہ نقشہ جما ہوا تیرا

    ہوں زمیں والے یا فلک والے

    سب کو صدقہ عطا ہوا تیرا

    ہر گھڑی گھر سے بھیک کی تقسیم

    رات دن در کھلا ہوا تیرا

    نہ کوئی دوسرا میں تجھ سا ہے

    نہ کوئی دوسرا ہوا تیرا

    سوکھے گھاٹوں مرا اتار ہو کیوں

    کہ ہے دریا چڑھا ہوا تیرا

    سوکھے دھانوں کی بھی خبر لے لے

    کہ ہے بادل گھرا ہوا تیرا

    مجھ سے کیا لے سکے عدو ایماں

    اور وہ بھی دیا ہوا تیرا

    لے خبر ہم تباہ کاروں کی

    قافلہ ہے لٹا ہوا تیرا

    مجھے وہ درد دے خدا کہ رہے

    ہاتھ دل پر دھرا ہوا تیرا

    تیرے سر کو ترا خدا جانے

    تاجِ سر نقش پا ہوا تیرا

    بگڑی باتوں کی فکر کر نہ حسنؔ

    کام سب ہے بنا ہو ا تیرا

    مأخذ :
    • کتاب : ذوق نعت (Pg. 27)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے