سیر گلشن کون دیکھے دشت طیبہ چھوڑ کر
سیر گلشن کون دیکھے دشت طیبہ چھوڑ کر
سوئے جنت کون جائے در تمھارا چھوڑ کر
سر گزشت غم کہوں کس سے تے ہوتے ہوئی
کس کے در پر جاؤں تیرا آستانہ چھوڑ کر
بے لقائے یار ان کو چین آجاتا اگر
بار بار آتے نہ یوں جبریل سدرہ چھوڑ کر
کون کہتا ہے دل بے مدعا ہے خوب چیز
میں تو کوڑی کو نہ لوں ان کی تمنا چھوڑ کر
مر ہی جاؤں میں اگر اس در سے جاؤں دو قدم
کیا بچے بیمار غم قرب مسیحا چھوڑ کر
کس تمنا پر جئیں یارب اسیران قفس
آ چکی باد صبا باغ مدینہ چھوڑ کر
بخشوانا مجھ سے عاصی کاروا ہوگا کسے
کس کے دامن میں چھپوں دامن تمہارا چھوڑ کر
ایسے جلوہ پر کروں میں لاکھ حوروں کو نثار
کیا غرض کیوں جاؤں جنت کو مدینہ چھوڑ کر
حشر میں ایک ایک کا منھ تکتے پھرتے ہیں عدو
آفتوں میں پھنس گئے ان کا سہارا چھوڑ کر
مر کے جیتے ہیں جو ان کے در پہ جاتے ہیں حسنؔ
جی کے مرتے ہیں جو آتے ہیں مدینہ چھوڑ کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.