سر سے پا تک ہر ادا ہے لا جواب
سر سے پا تک ہر ادا ہے لا جواب
خوبرویوں میں نہیں تیرا جواب
حسن ہے بے مثل صورت لا جواب
میں فدا تم آپ ہو اپنا جواب
پوچھے جاتے ہیں عمل میں کیا کہوں
تم سکھا جاؤ مرے مولیٰ جواب
میری حامی ہے تیری شانِ کریم
پرسشِ روزِ قیامت کا جواب
ہیں دعائیں سنگ دشمن کا عوض
اس قدر نرم ایسے پتھر کا جواب
پلتے ہیں ہم سے نکمے بے شمار
ہیں کہیں اس آستانہ کا جواب
روزِ محشر ایک تیرا آسرا
سب سوالوں کا جوابِ لا جواب
میں ید بیضا کے صدقے اے کلیم
پر کہاں اُن کی کفِ پا کا جواب
کیا عمل تو نے کئے اس کا سوال
تیری رحمت چاہیے میرا جواب
مہر و مہ ذرے ہیں ان کی راہ کے
کون دے نقشِ کفِ پا کا جواب
تم سے اس بیمار کو صحت ملے
جس کو دے دیں حضرتِ عیسیٰ جواب
دیکھ رضواں دشتِ طیبہ کی بہار
میری جنت کا نہ پائے گا جواب
شور ہے لطف و عطا کا شور ہے
مانگنے والا نہیں سنتا جواب
جرم کی پاداش پاتے اہلِ جرم
الٹی باتوں کا نہ ہو سیدھا جواب
پر تمہارے لطف آڑے آ گئے
دے دیا محشر میں پرسش کا جواب
ہے حسنؔ محوِ جمالِ روئے دوست
اے نکیرین اس سے پھر لینا جواب
- کتاب : ذوق نعت (Pg. 38)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.