Font by Mehr Nastaliq Web

سر سے پا تک ہر ادا ہے لا جواب

حسن رضا بریلوی

سر سے پا تک ہر ادا ہے لا جواب

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    سر سے پا تک ہر ادا ہے لا جواب

    خوبرویوں میں نہیں تیرا جواب

    حسن ہے بے مثل صورت لا جواب

    میں فدا تم آپ ہو اپنا جواب

    پوچھے جاتے ہیں عمل میں کیا کہوں

    تم سکھا جاؤ مرے مولیٰ جواب

    میری حامی ہے تیری شانِ کریم

    پرسشِ روزِ قیامت کا جواب

    ہیں دعائیں سنگ دشمن کا عوض

    اس قدر نرم ایسے پتھر کا جواب

    پلتے ہیں ہم سے نکمے بے شمار

    ہیں کہیں اس آستانہ کا جواب

    روزِ محشر ایک تیرا آسرا

    سب سوالوں کا جوابِ لا جواب

    میں ید بیضا کے صدقے اے کلیم

    پر کہاں اُن کی کفِ پا کا جواب

    کیا عمل تو نے کئے اس کا سوال

    تیری رحمت چاہیے میرا جواب

    مہر و مہ ذرے ہیں ان کی راہ کے

    کون دے نقشِ کفِ پا کا جواب

    تم سے اس بیمار کو صحت ملے

    جس کو دے دیں حضرتِ عیسیٰ جواب

    دیکھ رضواں دشتِ طیبہ کی بہار

    میری جنت کا نہ پائے گا جواب

    شور ہے لطف و عطا کا شور ہے

    مانگنے والا نہیں سنتا جواب

    جرم کی پاداش پاتے اہلِ جرم

    الٹی باتوں کا نہ ہو سیدھا جواب

    پر تمہارے لطف آڑے آ گئے

    دے دیا محشر میں پرسش کا جواب

    ہے حسنؔ محوِ جمالِ روئے دوست

    اے نکیرین اس سے پھر لینا جواب

    مأخذ :
    • کتاب : ذوق نعت (Pg. 38)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے