چشمِ دل چاہے جو انوار سے ربط
چشمِ دل چاہے جو انوار سے ربط
رکھے خاکِ درِ دلدار سے ربط
ان کی نعمت کا طلبگار سے میل
ان کی رحمت کا گنہگار سے ربط
دشت طیبہ کی جو دیکھ آئیں بہار
ہو عنادل کو نہ گلزار سے ربط
یا خدا دل نہ ملے دنیا سے
نہ ہو آئینہ کو زنگار سے ربط
نفس سے میل نہ کرنا اے دل
قہر ہے ایسے ستم گار سے ربط
تلخی نزع سے اس کو کیا کام
ہو جسے لعل شکر بار سے ربط
خاک طیبہ کی اگر مل جائے
آپ صحت کرے بیمار سے ربط
ان کے دامانِ گہربار کو ہے
کاسۂ دست طلبگار سے ربط
کل ہے اجلاس کا دن اور ہمیں
میل عملہ سے نہ دربار سے ربط
عمر یوں ان کی گلی میں گزرے
ذرہ ذرہ سے بڑھے پیار سے ربط
سرِ شوریدہ کو ہو در سے میل
کمرِ خستہ کو دیوار سے ربط
اے حسنؔ خیر ہے کیا کرتے ہو
یار کو چھوڑ کر اغیار سے ربط
- کتاب : ذوق نعت (Pg. 65)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.