ہو اگر مدحِ کف پا سے منور کاغذ
ہو اگر مدحِ کف پا سے منور کاغذ
عارضِ حور کی زینت ہو سراسر کاغذ
صفت خارِ مدینہ میں کروں گل کاری
دفتر گل کا عنادل سے منگا کر کاغذ
عارضِ پاک کی تعریف ہو جس پرچہ میں
سو سیہ نامہ اجالے وہ منور کاغذ
شامِ طیبہ کی تجلی کا کچھ احوال لکھوں
دے بیاضِ سحر اک ایسا منور کاغذ
یادِ محبوب میں کاغذ سے تو دل کم نہ رہے
کہ جدا نقش سے ہوتا نہیں دم بھر کاغذ
ورَقِ مہر اسے خط غلامی لکھ دے
ہو جو وصف رخِ پر نور سے انور کاغذ
ترے بندے ہیں طلب گار تری رحمت کے
سن گناہوں کے نہ اے داورِ محشر کاغذ
لب جاں بخش کی تعریف اگر ہو تجھ میں
ہو مجھے تارِ نفس ہر خط مسطر کاغذ
مدحِ رخسار کے پھولوں میں بسا لوں جو حسنؔ
حشر میں ہو مرے نامہ کا معطر کاغذ
- کتاب : ذوق نعت (Pg. 57)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.