Font by Mehr Nastaliq Web

ترا ظہور ہوا چشم نور کی رونق

حسن رضا بریلوی

ترا ظہور ہوا چشم نور کی رونق

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    ترا ظہور ہوا چشم نور کی رونق

    ترا ہی نور ہے بزمِ ظہور کی رونق

    رہے نہ عفو میں پھر ایک ذرہ شک باقی

    جو ان کی خاکِ قدم ہو قبور کی رونق

    نہ فرش کا یہ تجمل نہ عرش کا یہ جمال

    فقط ہے نور و ظہورِ حضور کی رونق

    تمہارے نور سے روشن ہوئے زمین و فلک

    یہی جمال ہے نزدیک و دور کی رونق

    زبانِ حال سے کہتے ہیں نقش پا ان کے

    ہمیں ہیں چہرۂ غلمان و حور کی رونق

    ترے نثار ترا ایک جلوۂ رنگیں

    بہارِ جنت و حور و قصور کی رونق

    ضیا زمین و فلک کی ہے جس تجلی سے

    الٰہی ہو وہ دلِ ناصبور کی رونق

    یہی فروغ تو زیب صفا و زینت ہے

    یہی ہے حسن و تجلی و نور کی رونق

    حضور تیرہ و تاریک ہے یہ پتھر دل

    تجلیوں سے ہوئی کوہِ طور کی رونق

    سجی ہے جن سے شبستانِ عالم امکاں

    وہی ہیں مجلس روزِ نشور کی رونق

    کریں دلوں کو منور سراج کے جلوے

    فروغِ بزمِ عوارف ہو نور کی رونق

    دعا خدا سے غمِ عشقِ مصطفیٰ کی ہے

    حسنؔ یہ غم ہے نشاط و سرور کی رونق

    مأخذ :
    • کتاب : ذوق نعت (Pg. 71)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے