Font by Mehr Nastaliq Web

خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ

حسن رضا بریلوی

خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ

    عیب کوری سے رہے چشمِ بصیرت محفوظ

    دل میں روشن ہو اگر شمع ولائے مولیٰ

    دزدِ شیطاں سے رہے دین کی دولت محفوظ

    یا خدا محو نظارہ ہوں یہاں تک آنکھیں

    شکل قرآں ہو مرے دل میں وہ صورت محفوظ

    سلسلہ زلف مبارک سے ہے جس کے دل کو

    ہر بلا سے رکھے اللہ کی رحمت محفوظ

    تھی جو اس ذات سے تکمیل فرامیں منظور

    رکھی خاتم کے لیے مہرِ نبوت محفوظ

    اے نگہبان مِرے تجھ پہ صلاۃ اور سلام

    دو جہاں میں ترے بندے ہیں سلامت محفوظ

    واسطہ حفظِ الٰہی کا بچا رہزن سے

    رہے ایمانِ غریباں دمِ رحلت محفوظ

    شاہیٔ کون و مکاں آپ کو دی خالق نے

    کنز قدرت میں ازل سے تھی یہ دولت محفوظ

    تیرے قانون میں گنجائش تبدیل نہیں

    نسنح و ترمیم سے ہے تیری شریعت محفوظ

    جسے آزاد کرے قامتِ شہ کا صدقہ

    رہے فتنوں سے وہ تا روزِ قیامت محفوظ

    اس کو اعدا کی عداوت سے ضرر کیا پہنچے

    جس کے دل میں ہو حسنؔ ان کی محبت محفوظ

    مأخذ :
    • کتاب : ذوق نعت (Pg. 66)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے