ہوں جو یادِ رخِ پرنور میں مرغانِ قفس
ہوں جو یادِ رخِ پرنور میں مرغانِ قفس
چمک اٹھے چہ یوسف کی طرح شانِ قفس
کس بلا میں ہیں گرفتار اسیرانِ قفس
کل تھے مہمانِ چمن آج ہیں مہمانِ قفس
حیف در چشم زدن صحبتِ یار آخر شد
اب کہاں طیبہ وہی ہم وہی زندانِ قفس
روئے گل سیر ندیدیم و بہار آخر شد
ہائے کیا قہر کیا الفتِ یارانِ قفس
نوحہ گر کیوں نہ رہے مرغ خوش الحان چمن
باغ سے دام ملا دام سے زندانِ قفس
پائیں صحرائے مدینہ تو گلستاں مل جائے
ہند ہے ہم کو قفس ہم ہیں اسیرانِ قفس
زخمِ دل پھول بنے آہ کی چلتی ہے نسیم
روز افزوں ہے بہارِ چمنستانِ قفس
قافلہ دیکھتے ہیں جب سوئے طیبہ جاتے
کیسی حسرت سے تڑپتے ہیں اسیرانِ قفس
تھا چمن ہی ہمیں زنداں کہ نہ تھا وہ گل تر
قید پر قید ہوا اور یہ زندانِ قفس
دشت طیبہ میں ہمیں شکل وطن یاد آئی
بد نصیبی سے ہوا باغ میں ارمانِ قفس
اب نہ آئیں گے اگر کھل گئی قسمت کی گرہ
اب گرہ باندھ لیا ہم نے یہ پیمانِ قفس
ہند کو کون مدینہ سے پلٹنا چاہے
عیش گلزار بھلا دے جو نہ دورانِ قفس
چہچہے کس گل خوبی کی ثنا میں ہیں حسنؔ
نکہت خلد سے مہکا ہے جو زِندانِ قفس
- کتاب : ذوق نعت (Pg. 61)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.