Font by Mehr Nastaliq Web

جو ہو سر کو رسائی ان کے در تک

حسن رضا بریلوی

جو ہو سر کو رسائی ان کے در تک

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    جو ہو سر کو رسائی ان کے در تک

    تو پہنچے تاجِ عزت اپنے سر تک

    وہ جب تشریف لائے گھر سے در تک

    بھکاری کا بھرا ہے در سے گھر تک

    دہائی ناخدائے بے کساں کی

    کہ سیلابِ الم پہنچا کمر تک

    الٰہی دل کو دے وہ سوزِ الفت

    پھنکے سینہ جلن پہنچے جگر تک

    نہ ہو جب تک تمہارا نام شامل

    دعائیں جا نہیں سکتیں اثر تک

    گزر کی راہ نکلی رہ گزر میں

    ابھی پہنچے نہ تھے ہم ان کے در تک

    خدا یوں ان کی الفت میں گما دے

    نہ پاؤں پھر کبھی اپنی خبر تک

    بجائے چشم خود اٹھ تا نہ ہو آڑ

    جمالِ یار سے تیری نظر تک

    تری نعمت کے بھوکے اہل دولت

    تری رحمت کا پیاسا ابرِ تر تک

    نہ ہوگا دو قدم کا فاصلہ بھی

    الہٰ آباد سے احمد نگر تک

    تمہارے حسن کے باڑے کے صدقے

    نمک خوارِ ملاحت ہے قمر تک

    شبِ معراج تھے جلوے پہ جلوے

    شبستانِ دنیٰ سے ان کے گھر تک

    بلائے جان ہے اب ویرانیٔ دل

    چلے آؤ کبھی اس اجڑے گھر تک

    نہ کھول آنکھیں نگاہِ شوقِ ناقص

    بہت پردے ہیں حسن جلوہ گر تک

    جہنم میں دھکیلیں نجدیوں کو

    حسنؔ جھوٹوں کو یوں پہنچائیں گھر تک

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے