Font by Mehr Nastaliq Web

جاتے ہیں سوئے مدینہ گھر سے ہم

حسن رضا بریلوی

جاتے ہیں سوئے مدینہ گھر سے ہم

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    جاتے ہیں سوئے مدینہ گھر سے ہم

    باز آئے ہند بد اختر سے ہم

    مار ڈالے بے قراری شوق کی

    خوش تو جب ہوں اس دلِ مضطر سے ہم

    بے ٹھکانوں کا ٹھکانہ ہے یہی

    اب کہاں جائیں تمہارے در سے ہم

    تشنگیٔ حشر سے کچھ غم نہیں

    ہیں غلامانِ شہ کوثر سے ہم

    اپنے ہاتھوں میں ہے دامانِ شفیع

    ڈَر چکے بس فتنۂ محشر سے ہم

    نقش پا سے جو ہوا ہے سرفراز

    دل بدل ڈالیں گے اس پتھر سے ہم

    گردنِ تسلیم خم کرنے کے ساتھ

    پھینکتے ہیں بارِ عصیاں سر سے ہم

    گور کی شب تار ہے پر خوف کیا

    لو لگائے ہیں رخِ انور سے ہم

    دیکھ لینا سب مرادیں مل گئیں

    جب لپٹ کر روئے ان کے در سے ہم

    کیا بندھا ہم کو خدا جانے خیال

    آنکھیں ملتے ہیں جو ہر پتھر سے ہم

    جانے والے چل دئیے کب کے حسنؔ

    پھر رہے ہیں ایک بس مضطر سے ہم

    مأخذ :
    • کتاب : ذوق نعت (Pg. 78)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے