اے راحت جاں جو ترے قدموں سے لگا ہو
اے راحت جاں جو ترے قدموں سے لگا ہو
کیوں خاک بسر صورتِ نقش کف پا ہو
ایسا نہ کوئی ہے نہ کوئی ہو نہ ہوا ہو
سایہ بھی تو اک مثل ہے پھر کیوں نہ جدا ہو
اللہ کا محبوب بنے جو تمہیں چاہے
اس کا تو بیاں ہی نہیں کچھ تم جسے چاہو
دل سب سے اٹھا کر جو پڑا ہو ترے در پر
افتادِ دو عالم سے تعلق اسے کیا ہو
اس ہاتھ سے دل سوختہ جانوں کے ہرے کر
جس سے رطبِ سوختہ کی نشو نما ہو
ہر سانس سے نکلے گل فردوس کی خوشبو
گر عکس فگن دل میں وہ نقش کف پا ہو
اس در کی طرف اس لیے میزاب کا منہ ہے
وہ قبلۂ کونین ہے یہ قبلہ نما ہو
بے چین رکھے مجھ کو ترا دردِ محبت
مٹ جائے وہ دل پھر جسے ارمانِ دوا ہو
یہ میری سمجھ میں کبھی آ ہی نہیں سکتا
ایمان مجھے پھیرے کو تو نے دیا ہو
اس گھر سے عیاں نورِ الٰہی ہو ہمیشہ
تم جس میں گھڑی بھر کے لیے جلوہ نما ہو
مقبول ہیں ابرو کے اشارے سے دعائیں
کب تیر کماندارِ نبوت کا خطا ہو
ہو سلسلہ الفت کا جسے زلفِ نبی سے
الجھے نہ کوئی کام نہ پابندِ بلا ہو
شکر ایک کرم کا بھی ادا ہو نہیں سکتا
دل ان پہ فدا جانِ حسنؔ ان پہ فدا ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.