Font by Mehr Nastaliq Web

تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو

حسن رضا بریلوی

تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو

    اللہ کو معلوم ہے کیا جانیے کیاہو

    یہ کیوں کہوں مجھ کو یہ عطا ہو یہ عطا ہو

    وہ دو کہ ہمیشہ میرے گھر بھر کا بھلا ہو

    جس بات میں مشہورِ جہاں ہے لبِ عیسیٰ

    اے جانِ جہاں وہ تری ٹھوکر سے ادا ہو

    ٹوٹے ہوئے دم جوش پہ طوفانِ معاصی

    دامن نہ ملے ان کا تو کیا جانیے کیا ہو

    یوں جھک کے ملے ہم سے کمینوں سے وہ جس کو

    اللہ نے اپنے ہی لیے خاص کیا ہو

    مٹی نہ ہو برباد پس مرگ الٰہی

    جب خاک اڑے میری مدینہ کی ہوا ہو

    منگتا تو ہے منگتا کوئی شاہوں میں دکھا دے

    جس کو مرے سرکار سے ٹکڑا نہ ملا ہو

    قدرت نے ازل میں یہ لکھا ان کی جبیں پر

    جو ان کی رضا ہو وہی خالق کی رضا ہو

    ہر وقت کرم بندہ نوازی پہ تلا ہے

    کچھ کام نہیں اس سے برا ہو کہ بھلا ہو

    ابرار نکوکار خدا کے ہیں خدا کے

    ان کا ہے وہ ان کا ہے جو بد ہو جو برا ہو

    اے نفس انہیں رنج دیا اپنی بدی سے

    کیا قہر کیا تو نے ارے تیرا برا ہو

    اللہ یوں ہی عمر گزر جائے گدا کی

    سر خم ہو درِ پاک پر اور ہاتھ اٹھا ہو

    شاباش حسنؔ اور چمکتی سی غزل پڑھ

    دل کھول کر آئینۂ ایماں کی جلا ہو

    مأخذ :
    • کتاب : ذوق نعت (Pg. 93)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے