Font by Mehr Nastaliq Web

ہم نے تقصیر کی عادت کر لی

حسن رضا بریلوی

ہم نے تقصیر کی عادت کر لی

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    ہم نے تقصیر کی عادت کر لی

    آپ اپنے پہ قیامت کر لی

    میں چلا ہی تھا مجھے روک لیا

    مرے اللہ نے رحمت کر لی

    ذکرِ شہ سن کے ہوئے بزم میں محو

    ہم نے جلوت میں بھی خلوت کر لی

    نارِ دوزخ سے بچایا مجھ کو

    مرے پیارے بڑی رحمت کر لی

    بال بیکا نہ ہوا پھر اس کا

    آپ نے جس کی حمایت کر لی

    رکھ دیا سر قدمِ جاناں پر

    اپنے بچنے کی یہ صورت کر لی

    نعمتیں ہم کو کھلائیں اور آپ

    جو کی روٹی پہ قناعت کر لی

    اس سے فردوس کی صورت پوچھو

    جس نے طیبہ کی زیارت کر لی

    شانِ رحمت کے تصدق جاؤں

    مجھ سے عاصی کی حمایت کر لی

    فاقہ مستوں کو شکم سیر کیا

    آپ فاقہ پہ قناعت کر لی

    اے حسنؔ کام کا کچھ کام کیا

    یا یوں ہی ختم پہ رخصت کر لی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے