نہیں وہ صدمہ یہ دل کو کس کا خیالِ رحمت تھپک رہا ہے
نہیں وہ صدمہ یہ دل کو کس کا خیالِ رحمت تھپک رہا ہے
کہ آج رک رک کے خونِ دل کچھ مری مژہ سے ٹپک رہا ہے
لیا نہ ہو جس نے ان کا صدقہ ملا نہ ہو جس کو ان کا باڑا
نہ کوئی ایسا بشر ہے باقی نہ کوئی ایسا ملک رہا ہے
کیا ہے حق نے کریم تم کو ادھر بھی للہ نگاہ کر لو
کہ دیر سے بے نوا تمہارا تمہارے ہاتھوں کو تک رہا ہے
ہے کس کے گیسوئے مشک بو کی شمیم عنبر فشانیوں پر
کہ جائے نغمہ صفیر بلبل سے مشک اذفر ٹپک رہا ہے
یہ کس کے روئے نکو کے جلوے زمانے کو کر رہے ہیں روشن
یہ کس کے گیسوئے مشک بو سے مشامِ عالم مہک رہا ہے
حسنؔ عجب کیا جو ان کے رنگِ ملیح کی تہہ ہے پیرہن پر
کہ رنگ پر نور مہر گردوں کئی فلک سے چمک رہا ہے
- کتاب : ذوق نعت (Pg. 102)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.