Font by Mehr Nastaliq Web

نہ مایوس ہو میرے دکھ درد والے

حسن رضا بریلوی

نہ مایوس ہو میرے دکھ درد والے

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    نہ مایوس ہو میرے دکھ درد والے

    درِ شہہ پہ آ ہر مرض کی دوا لے

    جو بیمارِ غم لے رہا ہو سنبھالے

    وہ چاہے تو دم بھر میں اس کو سنبھالے

    نہ کر اس طرح اے دلِ زار نالے

    وہ ہیں سب کی فریاد کے سننے والے

    کوئی دم میں اب ڈوبتا ہے سفینہ

    خدا را خبر میری اے ناخدا لے

    سفر کر خیالِ رخِ شہ میں اے جاں

    مسافر نکل جا اجالے اجالے

    تہی دست و سودائے بازارِ محشر

    مری لاج رکھ لے مرے تاج والے

    زہے شوکت آستانِ معلیٰ

    یہاں سر جھکاتے ہیں سب تاج والے

    سوا تیرے اے ناخدائے غریباں

    وہ ہے کون جو ڈوبتوں کو نکالے

    یہی عرض کرتے ہیں شیرانِ عالم

    کہ تو اپنے کتوں کا کتا بنالے

    جسے اپنی مشکل ہو آسان کرنی

    فقیرانِ طیبہ سے آکر دعا لے

    خدا کا کرم دستگیری کو آئے

    تیرا نام لے لیں اگر گرنے والے

    درِ شہہ پر اے دل مرادیں ملیں گی

    یہاں بیٹھ کر ہاتھ سب سے اٹھالے

    گھرا ہوں میں عصیاں کی تاریکیوں میں

    خبر میری اے میرے بدرالدجیٰ لے

    فقیروں کو ملتا ہے بے مانگے سب کچھ

    یہاں بیٹھ کر ہاتھ سب سے اٹھا لے

    لگائے ہیں پیوند کپڑوں میں اپنے

    اڑھائے فقیروں کو تم نے دو شالے

    جو پیشِ صنم سر جھکاتے تھے اپنے

    بنےتیری رحمت سے اللہ والے

    نگاہے زِ چشمِ کرم بر حسنؔ کن

    بکویت رسیدست آشفتہ حالے

    مأخذ :
    • کتاب : ذوق نعت (Pg. 101)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے