Font by Mehr Nastaliq Web

آپ کے در کی عجب توقیر ہے

حسن رضا بریلوی

آپ کے در کی عجب توقیر ہے

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    آپ کے در کی عجب توقیر ہے

    جو یہاں کی خاک ہے اکسیر ہے

    کام جو ان سے ہوا پورا ہوا

    ان کی جو تدبیر ہے تقدیر ہے

    جس سے باتیں کی انہیں کا ہوگیا

    واہ کیا تقریر پُر تاثیر ہے

    جو لگائے آنکھ میں محبوب ہو

    خاکِ طیبہ سرمۂ تسخیر ہے

    صدرِ اقدس ہے خزینہ راز کا

    سینہ کی تحریر میں تحریر ہے

    ذرہ ذرہ سے ہے طالع نورِ شاہ

    آفتابِ حسن عالم گیر ہے

    لطف کی بارش ہے سب شاداب ہیں

    ابر جودِ شاہ عالمگیر ہے

    مجرمو ان کی قدم پر لوٹ جاؤ

    بس رِہائی کی یہی تدبیر ہے

    یانبی مشکل کشائی کیجیے

    بندۂ در بے دل و دل گیر ہے

    وہ سراپا لطف ہیں شانِ خدا

    وہ سراپا نور کی تصویر ہے

    کان ہیں کانِ کرم جانِ کرم

    آنکھ ہے یا چشمۂ تنویر ہے

    جانے والے چل دئیے ہم رہ گئے

    اپنی اپنی اے حسنؔ تقدیر ہے

    مأخذ :
    • کتاب : ذوق نعت (Pg. 100)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے