آپ کے در کی عجب توقیر ہے
آپ کے در کی عجب توقیر ہے
جو یہاں کی خاک ہے اکسیر ہے
کام جو ان سے ہوا پورا ہوا
ان کی جو تدبیر ہے تقدیر ہے
جس سے باتیں کی انہیں کا ہوگیا
واہ کیا تقریر پُر تاثیر ہے
جو لگائے آنکھ میں محبوب ہو
خاکِ طیبہ سرمۂ تسخیر ہے
صدرِ اقدس ہے خزینہ راز کا
سینہ کی تحریر میں تحریر ہے
ذرہ ذرہ سے ہے طالع نورِ شاہ
آفتابِ حسن عالم گیر ہے
لطف کی بارش ہے سب شاداب ہیں
ابر جودِ شاہ عالمگیر ہے
مجرمو ان کی قدم پر لوٹ جاؤ
بس رِہائی کی یہی تدبیر ہے
یانبی مشکل کشائی کیجیے
بندۂ در بے دل و دل گیر ہے
وہ سراپا لطف ہیں شانِ خدا
وہ سراپا نور کی تصویر ہے
کان ہیں کانِ کرم جانِ کرم
آنکھ ہے یا چشمۂ تنویر ہے
جانے والے چل دئیے ہم رہ گئے
اپنی اپنی اے حسنؔ تقدیر ہے
- کتاب : ذوق نعت (Pg. 100)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.