Font by Mehr Nastaliq Web

تم ہو حسرت نکالنے والے

حسن رضا بریلوی

تم ہو حسرت نکالنے والے

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    تم ہو حسرت نکالنے والے

    نامرادوں کے پالنے والے

    میرے دشمن کو غم ہو بگڑی کا

    آپ ہیں جب سنبھالنے والے

    تم سے منہ مانگی آس ملتی ہے

    اور ہوتے ہیں ٹالنے والے

    لب جاں بخش سے جلا دِل کو

    جان مردے میں ڈالنے والے

    دستِ اقدس بجھا دے پیاس مری

    میرے چشمے ابالنے والے

    ہیں ترے آستاں کے خاک نشیں

    تخت پر خاک ڈالنے والے

    روزِ محشر بنا دے بات مری

    ڈھلی بگڑی سنبھالنے والے

    بھیک دے بھیک اپنے منگتا کو

    اے غریبوں کے پالنے والے

    ختم کردی ہے ان پہ موزونی

    واہ سانچے میں ڈھالنے والے

    ان کا بچپن بھی ہے جہاں پرور

    کہ وہ جب بھی تھے پالنے والے

    پار کر ناؤ ہم غریبوں کی

    ڈُوبتوں کو نکالنے والے

    خاکِ طیبہ میں بے نشاں ہو جا

    ارے او نام اچھالنے والے

    کام کے ہوں کہ ہم نکمے ہوں

    وہ سبھی کے ہیں پالنے والے

    زنگ سے پاک صاف کر دل کو

    اندھے شیشے اجالنے والے

    خارِ غم کا حسنؔ کو کھٹکا ہے

    دل سے کانٹا نکالنے والے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے