Font by Mehr Nastaliq Web

کرے چارہ سازی زیارت کسی کی

حسن رضا بریلوی

کرے چارہ سازی زیارت کسی کی

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    کرے چارہ سازی زیارت کسی کی

    بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی

    چمک کر یہ کہتی ہے طلعت کسی کی

    کہ دیدارِ حق ہے زیارت کسی کی

    نہ رہتی جو پردوں میں صورت کسی کی

    نہ ہوتی کسی کو زیارت کسی کی

    عجب پیاری پیاری ہے صورت کسی کی

    ہمیں کیا خدا کو ہے الفت کسی کی

    ابھی پار ہوں ڈوبنے والے بیڑے

    سہارا لگا دے جو رحمت کسی کی

    کسی کو کسی سے ہوئی ہے نہ ہو گی

    خدا کو ہے جتنی محبت کسی کی

    دمِ حشر عاصی مزے لے رہے ہیں

    شفاعت کسی کی ہے رحمت کسی کی

    رہے دل کسی کی محبت میں ہر دم

    رہے دل میں ہر دَم محبت کسی کی

    ترا قبضہ کونین و ما فیہما پر

    ہوئی ہے نہ ہو یوں حکومت کسی کی

    خدا کا دیا ہے ترے پاس سب کچھ

    ترے ہوتے کیا ہم کو حاجت کسی کی

    زمانہ کی دولت نہیں پاس پھر بھی

    زمانہ میں بٹتی ہے دولت کسی کی

    نہ پہنچیں کبھی عقل کل کے فرشتے

    خدا جانتا ہے حقیقت کسی کی

    ہمارا بھروسہ ہمارا سہارا

    شفاعت کسی کی حمایت کسی کی

    قمر اک اشارے میں دو ٹکڑے دیکھا

    زمانہ پہ روشن ہے طاقت کسی کی

    ہمیں ہیں کسی کی شفاعت کی خاطر

    ہماری ہی خاطر شفاعت کسی کی

    مصیبت زدو شاد ہو تم کہ ان سے

    نہیں دیکھی جاتی مصیبت کسی کی

    نہ پہنچیں گے جب تک گنہگار ان کے

    نہ جائے گی جنت میں امت کسی کی

    ہم ایسے گنہگار ہیں زہد والو

    ہماری مدد پر ہے رحمت کسی کی

    مدینہ کا جنگل ہو اور ہم ہوں زاہد

    نہیں چاہیے ہم کو جنت کسی کی

    ہزاروں ہوں خورشیدِ محشر تو غم کیا

    یہاں سایہ گستر ہے رحمت کسی کی

    بھرے جائیں گے خلد میں اہلِ عصیاں

    نہ جائے گی خالی شفاعت کسی کی

    وہی سب کے مالک انہیں کا ہے سب کچھ

    نہ عاصی کسی کے نہ جنت کسی کی

    رفعنا لک ذکرک پر تصدق

    سب اونچوں سے اونچی ہے رفعت کسی کی

    اترنے لگے ما رمیت یداللہ

    چڑھی ایسی زوروں پہ طاقت کسی کی

    گدا خوش ہوں خیرلک کی صدا ہے

    کہ دن دونی ہے بڑھتی دولت کسی کی

    فترضیٰ نے ڈالی ہیں بانہیں گلے میں

    کہ ہو جائے راضی طبیعت کسی کی

    خدا سے دعا ہے کہ ہنگامِ رخصت

    زبانِ حسنؔ پر ہو مدحت کسی کی

    مأخذ :
    • کتاب : ذوق نعت (Pg. 105)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے