Font by Mehr Nastaliq Web

مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد ان کا سوالی ہے

حسن رضا بریلوی

مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد ان کا سوالی ہے

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد ان کا سوالی ہے

    لبوں پہ التجا ہے ہاتھ میں روضہ کی جالی ہے

    تری صورت تری سیرت زمانے سے نرالی ہے

    تری ہر ہر ادا پیارے دلیلِ بے مثالی ہے

    بشر ہو یا مَلک جو ہے ترے در کا سوالی ہے

    تری سرکار والا ہے ترا دربار عالی ہے

    وہ جگ داتا ہو تم سنسار باڑے کا سوالی ہے

    دیا کرنا کہ اس منگتا نے بھی گدڑی بچھالی ہے

    منور دل نہیں فیض قدومِ شہ سے روضہ ہے

    مشبک سینۂ عاشق نہیں روضہ کی جالی ہے

    تمہارا قامت یکتا ہے اِکا بزمِ وحدت کا

    تمہاری ذات بے ہمتا مثالِ بے مثالی ہے

    فروغِ اخترِ بدر آفتابِ جلوۂ عارِض

    ضیائے طالعِ بدر ان کا ابروئے ہلالی ہے

    وہ ہیں اللہ والے جو تجھے والی کہیں اپنا

    کہ تو اللہ والا ہے ترا اللہ والی ہے

    سہارے نے ترے گیسو کے پھیرا ہے بلاؤں کو

    اشارے نے ترے ابرو کے آئی موت ٹالی ہے

    نگہ نے تیر زحمت کے دلِ امت سے کھینچے ہیں

    مژہ نے پھانس حسرت کی کلیجہ سے نکالی ہے

    فقیرو بے نواؤ اپنی اپنی جھولیاں بھرلو

    کہ باڑا بٹ رہا ہے فیض پر سرکار عالی ہے

    تجھی کو خلعتِ یکتائیِ عالم ملا حق سے

    تِرے ہی جسم پر موزوں قبائے بے مثالی ہے

    نکالا کب کسی کو بزمِ فیض عام سے تم نے

    نکالی ہے تو آنے والوں کی حسرت نکالی ہے

    بڑھے کیوں کر نہ پھر شکلِ ہلال اسلام کی رونق

    ہلالِ آسمانِ دیں تری تیغ ہلالی ہے

    فقط اتنا سبب ہے انعقادِ بزمِ محشر کا

    کہ ان کی شانِ محبوبی دکھائی جانے والی ہے

    خدا شاہد کہ روزِ حشر کا کھٹکا نہیں رہتا

    مجھے جب یاد آتا ہے کہ میرا کون والی ہے

    اتر سکتی نہیں تصویر بھی حسنِ سراپا کی

    کچھ اس درجہ ترقی پر تمہاری بے مثالی ہے

    نہیں محشر میں جس کو دسترس آقا کے دامن تک

    بھرے بازار میں اس بے نوا کا ہاتھ خالی ہے

    نہ کیوں ہو اتحادِ منزلت مکہ مدینہ میں

    وہ بستی ہے نبی والی تو یہ اللہ والی ہے

    شرف مکہ کی بستی کو ملا طیبہ کی بستی سے

    نبی والی ہی کے صدقے میں وہ اللہ والی ہے

    وہی والی وہی آقا وہی وارِث وہی مولیٰ

    میں ان کے صدقے جاؤں اور میرا کون والی ہے

    پکار اے جانِ عیسیٰ سن لو اپنے خستہ حالوں کی

    مرض نے درد مندوں کی غضب میں جان ڈالی ہے

    مرادوں سے تمہیں دامن بھرو گے نامرادوں کے

    غریبوں بیکسوں کا اَور پیارے کون والی ہے

    ہمیشہ تم کرم کرتے ہو بگڑے حال والوں پر

    بگڑ کر مری حالت نے مری بگڑی بنا لی ہے

    تمہارے در تمہارے آستاں سے میں کہاں جاؤں

    نہ مجھ سا کوئی بیکس ہے نہ تم سا کوئی والی ہے

    حسنؔ کا درد دکھ موقوف فرما کر بحالی دو

    تمہارے ہاتھ میں دنیا کی موقوفی بحالی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : ذوق نعت (Pg. 103)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے