Font by Mehr Nastaliq Web

سحر چمکی جمالِ فصل گل آرائشوں پر ہے

حسن رضا بریلوی

سحر چمکی جمالِ فصل گل آرائشوں پر ہے

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    سحر چمکی جمالِ فصل گل آرائشوں پر ہے

    نسیم روح پرور سے مشامِ جاں معطر ہے

    قریبِ طیبہ بخشے ہیں تصور نے مزے کیا کیا

    مرا دل ہے مدینہ میں مدینہ دل کے اندر ہے

    ملائک سر جہاں اپنا جھجکتے ڈرتے رکھتے ہیں

    قدم ان کے گنہگاروں کا ایسی سر زمیں پر ہے

    ارے او سونے والے دل ارے او سونے والے دل

    سحر ہے جاگ غافل دیکھ تو عالم منور ہے

    سہانی طرز کی طلعت نرالے رنگ کی نکہت

    نسیمِ صبح سے مہکا ہوا پرنور منظر ہے

    تعالی اللہ یہ شادابی یہ رنگینی تعالی اللہ

    بہارِ ہشت جنت دشت طیبہ پر نچھاور ہے

    ہوائیں آرہی ہیں کوچۂ پُر نورِ جاناں کی

    کھلی جاتی ہیں کلیاں تازگی دل کو میسر ہے

    منور چشم زائر ہے جمالِ عرشِ اعظم سے

    نظر میں سبز قبہ کی تجلی جلوہ گستر ہے

    یہ رفعت درگہِ عرش آستاں کے قرب سے پائی

    کہ ہر ہر سانس ہر ہر گام پر معراجِ دیگر ہے

    محرم کی نویں تاریخ بارہ منزلیں کرکے

    وہاں پہنچے وہ گھر دیکھا جو گھر اللہ کا گھر ہے

    نہ پوچھو ہم کہاں پہنچے اور ان آنکھوں نے کیا دیکھا

    جہاں پہنچے وہاں پہنچے جو دیکھا دل کے اندر ہے

    ہزاروں بے نواؤں کے ہیں جمگھٹ آستانہ پر

    طلب دل میں صدائے یا رسول اللہ لب پر ہے

    لکھا ہے خامۂ رحمت نے در پر خط قدرت سے

    جسے یہ آستانہ مل گیا سب کچھ میسر ہے

    خدا ہے اس کا مالک یہ خدائی بھر کا مالک ہے

    خدا ہے اس کا مولیٰ یہ خدائی بھر کا سرور ہے

    زمانہ اس کے قابو میں زمانے والے قابو میں

    یہ ہر دفتر کا حاکم ہے یہ ہر حاکم کا افسر ہے

    عطا کے ساتھ ہے مختار رحمت کے خزانوں کا

    خدائی پر ہے قابو بس خدا ہی اس سے باہر ہے

    کرم کے جوش ہیں بذل و نعم کے دور دورے ہیں

    عطائے بانوا ہر بے نوا سے شیر و شکر ہے

    کوئی لپٹا ہے فرطِ شوق میں روضہ کی جالی سے

    کوئی گردن جھکائے رعب سے بادیدۂ تر ہے

    کوئی مشغولِ عرضِ حال ہے یوں شادماں ہو کر

    کہ یہ سب سے بڑی سرکار ہے تقدیر یاور ہے

    کمینہ بندۂ در عرض کرتا ہے حضوری میں

    جو موروثی یہاں کا مدح گستر ہے ثنا گر ہے

    تری رحمت کے صدقے یہ تری رحمت کا صدقہ تھا

    کہ ان ناپاک آنکھوں کو یہ نظارہ میسر ہے

    ذلیلوں کی تو کیا گنتی سلاطین زمانہ کو

    تری سرکار عالی ہے ترا دربار برتر ہے

    تری دولت تری ثروت تری شوکت جلالت کا

    نہ ہے کوئی زمیں پر اَور نہ کوئی آسماں پر ہے

    مطاف و کعبہ کا عالم دکھایا تو نے طیبہ میں

    ترا گھر بیچ میں چاروں طرف اللہ کا گھر ہے

    تجلی پر تری صدقے ہے مہر و ماہ کی تابش

    پسینے پر ترے قربان روحِ مشک و عنبر ہے

    غم و افسوس کا دافع اشارہ پیاری آنکھوں کا

    دلِ مایوس کی حامی نگاہِ بندہ پرور ہے

    جو سب اچھوں میں ہے اچھا جو ہر بہتر سے ہے بہتر

    ترے صدقے سے اچھا ہے ترے صدقے میں بہتر ہے

    رکھوں میں حاضری کی شرم ان اعمال پر کیوں کر

    مرے امکان سے باہر مری قدرت سے باہر ہے

    اگر شانِ کرم کو لاج ہو میرے بلانے کی

    تو میری حاضری دونوں جہاں میں میری یاوَر ہے

    مجھے کیا ہوگیا ہے کیوں میں ایسی باتیں کرتا ہوں

    یہاں بھی یاس و محرومی یہ کیونکر ہو یہ کیوں کر ہے

    بلا کر اپنے کتے کو نہ دیں چمکار کر ٹکڑا

    پھر اس شانِ کرم پر فہم سے یہ بات باہر ہے

    تذبذب مغفرت میں کیوں رہے اس در کے زائر کو

    کہ یہ درگاہِ والا رحمت خالص کا منظر ہے

    مبارک ہو حسنؔ سب آرزوئیں ہو گئیں پوری

    اب ان کے صدقے میں عیش ابد تجھ کو میسر ہے

    مأخذ :
    • کتاب : ذوق نعت (Pg. 114)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے