Font by Mehr Nastaliq Web

جب سجتی ہے بندے کی دعا صلِ علیٰ سے

ابراہیم حسانؔ

جب سجتی ہے بندے کی دعا صلِ علیٰ سے

ابراہیم حسانؔ

MORE BYابراہیم حسانؔ

    جب سجتی ہے بندے کی دعا صلِ علیٰ سے

    بڑھ جاتی ہے مولا کی عطا صلِ علیٰ سے

    بے کیف صداؤں سے ہے مانوس زمانہ

    ہو جائے یہ معمور فضا صلِ علیٰ سے

    جب دھوپ کڑی ہو ترے سر پر تو پڑھا کر

    چھا جاتی ہے گھنگھور گھٹا صلِ علیٰ سے

    جیون مرا مسموم فضاؤں میں گھرا ہے

    ملتی ہے مجھے ٹھنڈی ہوا صلِ علیٰ سے

    زخموں کا گلستاں کھلا دل میں ہے تو کیا غم

    ہر زخم کو ملتی ہے دوا صلِ علیٰ سے

    مرشد نے بتایا ہے یہ پرنور وظیفہ

    آجاتی ہے چہرےپہ ضیا صلِ علیٰ سے

    دنیا کے اندھیرے مجھے گھیریں بھی تو کیسے

    افکار کا روشن ہے دیا صلِ علیٰ سے

    دنیا کے خزانوں سے سروکار نہیں ہے

    دھڑکن کو یہ کرتے ہیں جدا صلِ علیٰ سے

    حسانؔ کی بخشش کا یہ سامان ہیں نعتیں

    ہو دنیا و عقبیٰ میں بھلا صلِ علیٰ سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے