غمِ الفت ہے دم کے ساتھ دم نکلے تو غم نکلے
غمِ الفت ہے دم کے ساتھ دم نکلے تو غم نکلے
محبت کا مزا جب ہے نہ دم نکلے نہ غم نکلے
یہ لطفِ زندگانی ہے کہ ہو نظارہ اس رخ کا
مزہ مرنے کا جب آئے کہ ان قدموں پہ دم نکلے
صلہ پایا ہے ہم نے مدحتِ خط مبارک کا
کہ عصیاں بھی ہمارے خط کشیدہ یک قلم نکلے
یہ ہے ایمان تم سا شافع محشر نہیں کوئی
مگر ڈھونڈو تو ہم سا بھی گنہگاروں میں کم نکلے
اسے کہتے ہیں باہم دل سے دل کو راہ ہوتی ہے
اُدھر محشر میں تم آئے ادھر قد سے ہم نکلے
ہمارا کام تھا راہِ محبت میں قدم رکھنا
تمہیں نے دستگیری کی تو اب کچھ پاؤں جم نکلے
مدینے کی جدائی دل میں کانٹا سی کھٹکتی ہے
فدا ہے دیکھیے اے لطفؔ کب یہ خارِ غم نکلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.