بستیاں پیار کی دنیا میں بسانے والے
بستیاں پیار کی دنیا میں بسانے والے
تیرے محتاج ہیں ہر دور میں آنے والے
ان کی منزل پہ ہمیشہ ہی نگائیں ہوں گی
تیری راہوں پہ چلیں گے جو زمانے والے
میں ترے نقشِ قدم صورتِ انجم دیکھوں
کہکشاں سیرت اطہر کی سجانے والے
تیری عظمت کو خدا نے تجھے امی رکھا
روشنی علم کی ہر گام بچھانے والے
درسِ اخلاص دیا تو نے زمانے بھر کو
نورِ ایقان کو سینوں میں بسانے والے
یاد آتا ہے تیرا دورِ مساوات ہمیں
اپنے پہلو میں غلاموں کو بٹھانے والے
بچھ گئے لوگ ہی آ کے ترے قدموں میں
تیرے رستے میں کو کانٹے تھے بچھانے والے
پاس اپنے یہ غلامی کی سند رکھتے ہیں
کتنے خوش بخت ہیں میلاد منانے والے
نورِ حق نورِ یقیں ان کو ملے گا نجمیؔ
پاک سیرت کو جو رہبر ہیں بنانے والے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.