Font by Mehr Nastaliq Web

یہ کس کے ذہنِ رسا کے سائے میں پل رہے ہیں نئے تصور

جمیل مظہری

یہ کس کے ذہنِ رسا کے سائے میں پل رہے ہیں نئے تصور

جمیل مظہری

MORE BYجمیل مظہری

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)

    یہ کس کے ذہنِ رسا کے سائے میں پل رہے ہیں نئے تصور

    یہ کس کے جوشِ عمل کے سانچے میں ڈھل رہا ہے نیا زمانہ

    یہ کس کے افسونِ ادعا نے طلسم صدیوں کے توڑ ڈالے

    اجڑ گئیں ساری بارگاہیں، پلٹ گیا سارا کار خانہ

    نہ وہ سیاست کے آشیانے، نہ وہ شریعت کے آستانے

    نہ وہ ہوس کے قمار خانے، نہ وہ خرد کا نگار خانہ

    تصورِ رنگ و بو بھی بدلا طبیعتِ آب و گل بھی بدلی

    فسانے بننے لگے حقیقت حقیقتیں بن گئیں فسانہ

    جو راکھ کے ڈھییر رہ گئے ہیں وہ اب اٹھیں گرد راہ بن کر

    ہوا کی رفتار کہہ رہی ہے کہ قافلہ ہو چکا روانہ

    بجھے چراغوں میں روشنی ہے، نشیلی آنکھوں کی نیند اڑی ہے

    جمیلؔ کی بانسری نے چھیڑا ہے شام سے صبح کا ترانہ

    مأخذ :
    • کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 16)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے