Font by Mehr Nastaliq Web

ہمارے سر پہ ہے سایہ فگن الفت محمد کی

جمیل قادری

ہمارے سر پہ ہے سایہ فگن الفت محمد کی

جمیل قادری

MORE BYجمیل قادری

    ہمارے سر پہ ہے سایہ فگن الفت محمد کی

    ہمارے دل میں ہے جلوہ کناں صورت محمد کی

    گنہ گارو نہ گھبراؤ، سیہ کارو نہ شرماؤ

    وہ آئی مجرموں کو ڈھونڈتی رحمت محمد کی

    عرب والا چلا ہے بخشوانے اپنی امت کو

    مچی ہے سارے خاص و عام میں شہرت محمد کی

    علومِ اولین و آخریں کا کر دیا مالک

    خدا نے دھوم سے کی عرش پر دعوت محمد کی

    فقیرؤ بے نواؤ مانگ لو جو کچھ ضرورت ہے

    جھڑکنا پھیرنا خالی نہیں عادت محمد کی

    فرشتو قبر میں اپنی سند ہمراہ لایا ہوں

    یہ دیکھو دل کے آئینے میں ہے صورت محمد کی

    ہزاروں قدسیوں کی بھیڑ ہے روضہ کی جالی پر

    ہزاروں آرہے ہیں چومنے تربت محمد کی

    جمیلِؔ قادری رضوی تجھے کیوں خوفِ محشر ہو

    کہ تیرے دل کے آئینے میں ہے صورت محمد کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے