پڑھا بے زبانوں نے کلمہ تمہارا
پڑھا بے زبانوں نے کلمہ تمہارا
ہے سنگ و شجر میں بھی چرچا تمہارا
فترضےٰ کی یہ پیاری پیاری صدا ہے
کہ ہوگا قیامت میں چاہا تمہارا
رفعنا کا جلوہ دکھانے کو حق نے
لکھا عرش پر نامِ والا تمہارا
اذانوں میں خطبوں میں شادی و غم میں
غرض ذکر ہوتا ہے ہر جا تمہارا
بھرے اس میں اسرار علم دو عالم
کشادہ کیا حق نے سینہ تمہارا
کسی جا ہے طہٰ و یٰسین کہیں پر
لقب ہے سراجاً منیرا تمہارا
جسے حق کے دیدار کی آرزو ہو
وہ دیکھے مری جان چہرہ تمہارا
دلِ پاک بیدار اور چشم خفتہ
نرالا تھا عالم میں سونا تمہارا
صحابہ سی تقدیر والوں کے قرباں
ہے پایا جنہوں نے زمانہ تمہارا
غریبو سوائے درِ مصطفیٰ کے
کہیں بھی نہ ہوگا ٹھکانہ تمہارا
عرب والے پھیرا ہماری طرف بھی
ہے ہر سمت رحمت کا دورہ تمہارا
مطالب کا قبلہ ہے گر سبز گنبد
مقاصد کا کعبہ ہے روضہ تمہارا
سوائے درِ پاک کے میرے داتا
بتاؤ کہاں جائے منگتا تمہارا
کیا حق نے بحرِ کمالات تم کو
نہ پایا کسی نے کنارہ تمہارا
بحکمِ خدا تم ہو موجود ہر جا
بظاہر ہے طیبہ ٹھکانا تمہارا
کیا تم کو نورِ مجسم خدا نے
زمیں پر نہیں پڑتا سایہ تمہارا
خدا نے کیا اپنے پیارے سے وعدہ
وہ پیارا ہمارا جو پیارا تمہارا
صدا دیتے آتے ہیں منگتے ہزاروں
کہ داتا رہے بول بالا تمہارا
جلیں منکرین قیامِ ولادت
رہے گا ابد تک یہ چرچا تمہارا
بتاتے ہو شرک اور ہوتے ہو شامل
یہ ہے بے حیائی کا آنا تمہارا
جمیلؔ اب تو خوش ہو ندا آ رہی ہے
کہ مقبول ہو یہ قصیدہ تمہارا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.