Font by Mehr Nastaliq Web

شکر تیرا ہو سکے کس طرح رحمٰن رسول

جمیل قادری

شکر تیرا ہو سکے کس طرح رحمٰن رسول

جمیل قادری

MORE BYجمیل قادری

    شکر تیرا ہو سکے کس طرح رحمٰن رسول

    مجھ سے عاصی کو کیا تو نے ثنا خوانِ رسول

    یا الٰہی عشقِ مولیٰ میں مجھے ایسا گما

    تا ابد نکلے نہ میرے دل سے ارمانِ رسول

    امر ان کا امرِ رب ہے نہی ان کی نہی رب

    وہ ہے فرمانِ الٰہی جو ہے فرمانِ رسول

    ان کے در سے بھیک پاتے ہیں سلاطینِ جہاں

    بادشاہانِ زمانہ ہیں گدایانِ رسول

    ایک ہم ہیں جو فراق و ہجر میں تڑپا کریں

    ایک وہ ہیں جو بنے قسمت سے دربانِ رسول

    چل دیئے جو روضۂ شہِ کی زیارت کے لیے

    ہوگئے گھر سے نکلتے ہی وہ مہمانِ رسول

    ہے بیابانِ مدینہ جان اہلِ خلد کی

    آبروئے جنتہ الماریٰ گلستانِ رسول

    سوف یعطیک فترضیٰ مہر ہے اس بات پر

    خلد میں بے شبہ جائیں گے گدایانِ رسول

    اس طرح آئیں گے ان کے نام لیوا حشر میں

    لب پہ ہوگا نامِ حق ہاتھوں میں دامانِ رسول

    یا الٰہی آفتابِ حشر جب تیزی دکھائے

    سایہ گستر ہو گنہگاروں پہ دامانِ رسول

    کربلا والوں کا صدقہ شاہِ جیلاں کا طفیل

    عاصیوں کے جرم دھو دے چشم گریانِ رسول

    ان کے قدموں پر کیے قربان اپنے جان و مال

    آفریں صد آفریں اے جاں نثارانِ رسول

    منکرانِ مجلسِ میلاد سے کہہ دے کوئی

    محفلِ اقدس میں آکر دیکھ لیں شانِ رسول

    جس طرح واصف ہے دنیا میں جمیلِؔ قادری

    حشر میں بھی ہو یوں ہی یا رب ثنا خوانِ رسول

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے