Font by Mehr Nastaliq Web

اے دل تو درودوں کی اول تو سجا ڈالی

جمیل قادری

اے دل تو درودوں کی اول تو سجا ڈالی

جمیل قادری

MORE BYجمیل قادری

    اے دل تو درودوں کی اول تو سجا ڈالی

    پھر جا کے مدینہ میں روضے پہ چڑھا ڈالی

    کیا نذر کروں تیرے دربارِ مقدس میں

    توصیف کے پھولوں کی لایا ہوں شہا ڈالی

    احمد کو کیا آقا اور ہم کو کیا بندہ

    اللہ نے رحمت کی کیا خوب بنا ڈالی

    بس جائے دماغِ جاں عشاق کا خوشبو سے

    لا باغِ مدینہ سے پھولوں کی صبا ڈالی

    خورشید و قمر ایسے ہوتے نہ کبھی روشن

    تو نے ہی جھلک ان میں اے نورِ خدا ڈالی

    تم سے نہ کہوں کیوں کر تم چاند عرب کے ہو

    دیکھو تو شبِ غم نے کیا مجھ پہ بلا ڈالی

    شرمندہ کیا مجھ کو آگے میرے آقا کے

    اے نفسِ لعیں تو نے مجھ پر یہ بلا ڈالی

    مولیٰ مرے نامہ سے دھل جائیں گے سب عصیاں

    اک بوند اگر تو نے اے ابرِ سخا ڈالی

    مجرم تیرے ارمانوں کا ہے باغ پھلا پھولا

    لے فرد گناہوں کی مولیٰ نے مٹا ڈالی

    سب بھر دیئے زخمِ دل سرکارِ مدینہ نے

    قلبوں میں غلاموں کے رحمت کی دوا ڈالی

    کچھ ایسی گھٹا نوری امنڈی کہ تیری امت

    پاک ہوگئی رحمت کی بارش میں نہا ڈالی

    واللہ مدد ان کی ہر دم ہے کمر بستہ

    جو بات مری بگڑی مولیٰ نے بنا ڈالی

    مقبول اسے کیجیے اور اس کا صلہ دیجیے

    لایا ہے جمیلؔ اپنے ارماں کی سجا ڈالی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے