Font by Mehr Nastaliq Web

تیرے جد کی ہے بارہویں غوثِ اعظم

جمیل قادری

تیرے جد کی ہے بارہویں غوثِ اعظم

جمیل قادری

MORE BYجمیل قادری

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان غوث پاک شیخ عبدالقادر جیلانی (بغداد-عراق)

    تیرے جد کی ہے بارہویں غوثِ اعظم

    ملی ہے تجھے گیارہویں غوثِ اعظم

    کوئی ان کے رتبہ کو کیا جانتا ہے

    محمد کے ہیں جانشیں غوثِ اعظم

    تو ہے نور و آئینۂ مصطفائی

    نہیں کوئی تجھ سا حسیں غوثِ اعظم

    ہوئے اؤلیا ذی شرف گرچہ لاکھوں

    مگر سب سے ہیں بہتریں غوثِ اعظم

    جہاں اؤلیا کرتے ہیں جبہ سائی

    وہ بغداد کی ہے زمیں غوثِ اعظم

    ترے روضۂ پاک کے دیکھنے کو

    تڑپتا ہے قلب حزیں غوثِ اعظم

    مجھے بھی بلالو خدارا کہ میں بھی

    گھسوں آستاں پر جبیں غوثِ اعظم

    مرے قلب کا حال کیا پوچھتے ہو

    یہ دل ہے مکاں اور مکیں غوثِ اعظم

    جو اہل نظر ہیں وہی جانتے ہیں

    کہ ہر دم ہیں سب سے قریں غوثِ اعظم

    ہماری بھی للہ بگڑی بنا دو

    غلاموں کے تم ہو معیں غوثِ اعظم

    ہیں گھیرے ہوئے چار جانب سے دشمن

    خدا را بچا میرا دیں غوثِ اعظم

    چھپالے مجھے اپنے دامن کے نیچے

    کہ غم کی گھٹائیں اٹھیں غوثِ اعظم

    وہ ہے کون سا ان کے در کا بھکاری

    مددگار جس کے نہیں غوثِ اعظم

    حسین و حسن کی تو آنکھوں کا تارا

    وہ خاتم ہیں اور تو نگیں غوثِ اعظم

    حکومت تری نافذہ ہے کہ حق نے

    تجھے دی ہے فتح مبیں غوثِ اعظم

    تجھے سب نے جانا تجھے سب نے مانا

    تری سب میں دھومیں مچیں غوثِ اعظم

    تو وہ ہے ترے پاک تلوے کے آگے

    کھنچی گردنیں جھک گئیں غوثِ اعظم

    نہ تھے مطلقاً اؤلیا جس سے واقف

    تجھے نعمتیں وہ ملیں غوثِ اعظم

    تری ذات سے اے شریعت کے حامی

    طریقت کی رمزیں کھلیں غوثِ اعظم

    شریعت طریقت کے ہر سلسلے میں

    ہیں تیری ہی نہریں بہیں غوثِ اعظم

    سلاسل کی سب منزلوں میں ہے پھیلی

    تری روشنی بالیقیں غوثِ اعظم

    غم و رنج میں نام تیرا لیا جب

    تو کلیاں دلوں کی کھلیں غوثِ اعظم

    کرم گر کرو میرے مدفن میں آؤ

    تو ہو قبر خلد بریں غوثِ اعظم

    الٰہی ترا کلمۂ پاک مجھ کو

    سکھائیں دم واپسیں غوثِ اعظم

    بسوئے جمیلؔ از نگاہِ عنایت

    ببیں غوثِ اعظم ببیں غوثِ اعظم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے