Font by Mehr Nastaliq Web

پردہ رخِ انور سے جو اٹھا شبِ معراج

جمیل قادری

پردہ رخِ انور سے جو اٹھا شبِ معراج

جمیل قادری

MORE BYجمیل قادری

    پردہ رخِ انور سے جو اٹھا شبِ معراج

    جنت کا ہوا رنگ دوبالا شبِ معراج

    حوروں نے بھی گایا یہ ترانہ شبِ معراج

    خالق نے محمد کو بلایا شبِ معراج

    گیسو کھلے گھنگھور گھٹا اٹھی کہ ہم پر

    بارانِ کرم جھوم کے برسا شبِ معراج

    اے رحمت عالم تیری رحمت کے تصدق

    ہر ایک نے پایا ترا صدقہ شبِ معراج

    جس وقت چلی شاہِ مدینہ کی سواری

    سجدے میں جھکا عرشِ معلیٰ شبِ معراج

    خورشید و قمر ارض و سما عرش و ملائک

    کس نے نہیں پایا ترا صدقہ شبِ معراج

    وہ جوش تھا انوار کا افلاک کے اوپر

    ملتا نہ تھا نظارہ کو رستہ شبِ معراج

    مہمان بلانے کے لیے اپنے نبی کو

    اللہ نے جبریل کو بھیجا شبِ معراج

    یہ شانِ جلالت کہ نہایت ہی ادب سے

    جبریل نے آقا کو جگایا شبِ معراج

    جبریل بھی حیران ہوئے دیکھ کے رتبہ

    سدرہ سے قدم جب کہ بڑھایا شبِ معراج

    جبریل تھکے ہوگئے سرکار روانہ

    منہ تکتا ہوا رہ گیا سدرہ شبِ معراج

    ہمراہ سواری کے تھیں افواجِ ملا ئک

    بن کر چلے اس شان سے دولہا شبِ معراج

    یوں مسجد اقصیٰ میں نماز اس نے پڑھائی

    طالب سے ملیں پڑھ کے دوگانہ شبِ معراج

    ہر ایک نبی بلکہ سب افلاک کے قدسی

    پڑھتے تھے شہنشاہ کا خطبہ شبِ معراج

    جانِ دوجہاں رِفعت سرکار پہ قرباں

    کہتا تھا یہ بڑھ بڑھ کر رفعنا شب معراج

    مدت سے جو ارمان تھا وہ آج نکالا

    حوروں نے کیا خوب نظارہ شبِ معراج

    آراستہ ہو خلد مؤدب ہوں فرشتے

    یوں ہاتفِ غیبی نے پکارا شبِ معراج

    پیہم چلی آتی تھیں دعاؤں کی صدائیں

    ہر رات نبی کی ہو خدایا شبِ معراج

    تھی راستہ بھر ان پہ درودوں کی نچھاور

    باندھا گیا تسلیم کا سہرا شبِ معراج

    دولہا تھے محمد تو براتی تھے فرشتے

    اس شان سے پہنچے مرے مولیٰ شبِ معراج

    اللہ کی رحمت سے وہ مہکا گل وحدت

    خوشبو سے بسا عالم بالا شبِ معراج

    روشن ہوئے سب ارض و سما نور سے اس کے

    جب ماہِ عرب عرش پہ چمکا شبِ معراج

    تھا چرخِ چہارم پہ کوئی طور کے اوپر

    سرکار گئے عرش سے بالا شبِ معراج

    جب پہنچے مقامِ فتدلی پہ محمد

    خالق سے رہا کچھ بھی نہ پردہ شبِ معراج

    اے صلِ علیٰ بزمِ تدلیٰ میں پہنچ کر

    اس ذات میں گم ہوگئے آقا شبِ معراج

    ممکن ہی نہیں عقل دوعالم کی رسائی

    ایسا دیا اللہ نے رتبہ شب معراج

    عرش و ملک و ارض و سما جنت و دوزخ

    اس شاہ نے ہر چیز کو دیکھا شبِ معراج

    تفصیل سے کی سیر مگر اس پہ یہ طرہ

    اک پل میں یہ طے ہوگیا رستہ شبِ معراج

    زنجیر در پاک کی ہلتی ہوئی پائی

    اور گرم تھا وہ بستر اعلیٰ شبِ معراج

    اے ماہِ مدینہ تری تنویر کے قرباں

    چمکا دیا امت کا نصیبہ شبِ معراج

    لو عاصیو وہ تم کو وہاں پر بھی نہ بھولے

    کاٹا گیا عصیاں کا سیاہا شبِ معراج

    اے مؤمنو مژدہ کہ وہ اللہ سے لائے

    بخشائش امت کا قبالہ شبِ معراج

    بھیجوں گا میں امت کو تری خلد میں پہلے

    حق نے کیا محبوب سے وعدہ شبِ معراج

    اس میں سے جمیلؔ رضوی کو بھی عطا ہو

    رحمت کا بٹا خاص جو حصہ شبِ معراج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے